Writing پاکستان واقعی ایک عجیب و غریب ریاست ہے۔ اس کی کہانی دو ایسے رخ لیے ہوئے ہے جو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ایک طرف داخلی ابتری، انتشار، سیا...
Writing
پاکستان واقعی ایک عجیب و غریب ریاست ہے۔ اس کی کہانی دو ایسے رخ لیے ہوئے ہے جو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ایک طرف داخلی ابتری، انتشار، سیاسی کھینچا تانی اور عدم استحکام کی طویل داستان، اور دوسری طرف خارجہ محاذ پر حیران کن کامیابیاں، سفارتی چابک دستی اور دفاعی برتری کی مثالیں۔
اگر ہم اندرونِ ملک کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو منظر کچھ زیادہ حوصلہ افزا دکھائی نہیں دیتا۔ یہاں جمہوریت بارہا جنم لیتی ہے مگر زیادہ دیر زندہ نہیں رہ پاتی۔ کبھی آمریت کے سائے اسے نگل لیتے ہیں اور کبھی سیاسی قیادت خود اسے کمزور کر دیتی ہے۔ اقتدار کی رسہ کشی، اداروں کی ٹکراؤ، اور ذاتی مفادات کی جنگ نے اس ریاست کو مسلسل عدم استحکام سے دوچار رکھا۔ ایک دور جاتا ہے تو دوسرا آتا ہے مگر کہانی وہی رہتی ہے—صرف کردار بدل جاتے ہیں۔
کبھی کوئی رہنما عوامی مقبولیت کے عروج پر ہوتا ہے اور کچھ ہی عرصے بعد زوال کی گہرائیوں میں جا گرتا ہے۔ کبھی اقتدار کے ایوان آباد ہوتے ہیں تو کبھی جیلوں کی سلاخیں انہی چہروں کو اپنے حصار میں لے لیتی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ملک سیاسی تجربہ گاہ بن چکا ہو جہاں ہر آنے والا اپنا نسخہ آزماتا ہے اور چلا جاتا ہے۔
لیکن جب ہم اسی ملک کو عالمی منظرنامے میں دیکھتے ہیں تو تصویر یکسر بدل جاتی ہے۔ یہاں وہی ریاست ایک نہایت اہم، بااثر اور اسٹریٹجک حیثیت کی حامل نظر آتی ہے۔ محدود وسائل کے باوجود اس نے عالمی سیاست میں ایسے کردار ادا کیے جنہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ بڑی طاقتوں کے درمیان توازن قائم کرنے، حساس معاملات میں ثالثی کرنے اور مشکل حالات میں اپنی اہمیت منوانے کا ہنر اس ملک کو خوب آتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان فاصلے کم کرنے میں اس ریاست نے کلیدی کردار ادا کیا۔ سرد جنگ کے نازک لمحات ہوں یا خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال، یہ ملک اکثر ایسے مقام پر کھڑا نظر آتا ہے جہاں سے عالمی سیاست کا دھارا موڑا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی طاقتیں اسے کبھی نظر انداز نہیں کر سکتیں۔
پھر دفاعی میدان کو دیکھ لیجیے۔ ایک ایسا ملک جسے شروع دن سے خطرات کا سامنا رہا، اس نے نہ صرف اپنی سلامتی کو یقینی بنایا بلکہ خود کو ایک مضبوط دفاعی قوت کے طور پر منوایا۔ محدود وسائل کے باوجود جوہری صلاحیت حاصل کرنا اور اسے برقرار رکھنا کوئی معمولی کارنامہ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسا مرحلہ تھا جس نے عالمی طاقتوں کے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے۔
خطے کی جنگیں ہوں یا عالمی طاقتوں کی مداخلت، اس ملک نے ہر بار اپنے مفادات کا تحفظ کیا۔ بعض اوقات خاموشی سے، بعض اوقات حکمت عملی کے ساتھ، اور بعض اوقات حیران کن انداز میں۔ یہی وہ پہلو ہے جو دنیا کو حیران بھی کرتا ہے اور محتاط بھی رکھتا ہے۔
تاہم ایک سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ اگر یہ ملک خارجہ محاذ پر اتنا کامیاب ہے تو اندرونِ ملک یہ استحکام کیوں حاصل نہیں کر پاتا؟ کیوں یہاں ادارے مضبوط نہیں ہو پاتے؟ کیوں یہاں پالیسیوں کا تسلسل قائم نہیں رہتا؟ اور کیوں ہر چند سال بعد سب کچھ ازسرِ نو شروع کرنا پڑتا ہے؟
شاید اس کا جواب یہی ہے کہ ہم نے اپنی داخلی کمزوریوں کو کبھی سنجیدگی سے دور کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ہم نے وقتی فائدے کو مستقل استحکام پر ترجیح دی۔ ہم نے نظام بنانے کے بجائے افراد پر انحصار کیا۔ اور ہم نے اصولوں کے بجائے مفادات کو فوقیت دی۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اس تضاد کو ختم کریں۔ اگر ہم اپنی داخلی پالیسیوں کو بھی اسی سنجیدگی، حکمت اور مستقل مزاجی کے ساتھ چلائیں جس کا مظاہرہ ہم خارجہ محاذ پر کرتے ہیں تو یہ ملک واقعی ایک بڑی طاقت بن سکتا ہے۔
یہ ریاست صلاحیت رکھتی ہے، وسائل بھی موجود ہیں اور موقع بھی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں، اپنی کمزوریوں کو تسلیم کریں اور انہیں دور کرنے کا عزم کریں۔ جس دن یہ توازن قائم ہو گیا، اس دن اس ملک کی پرواز کو کوئی نہیں روک سکے گا۔

کوئی تبصرے نہیں