کالم: لیٹے ہوئے یا کھڑے ہوئے؟ اصل کہانی کیا ہے ہم پاکستانی عجیب قوم ہیں۔ ہمیں یا تو خود سے حد درجہ محبت ہو جاتی ہے یا پھر ہم خود ہی کو ملام...
کالم: لیٹے ہوئے یا کھڑے ہوئے؟ اصل کہانی کیا ہے
ہم پاکستانی عجیب قوم ہیں۔ ہمیں یا تو خود سے حد درجہ محبت ہو جاتی ہے یا پھر ہم خود ہی کو ملامت کرنے لگتے ہیں۔ درمیان کی راہ ہمیں کم ہی پسند آتی ہے۔ آج کل ایک نیا بیانیہ گردش کر رہا ہے—پاکستان “لیٹ کر” کامیاب ہوگیا اور ایران “کھڑے ہو کر” بھی کچھ نہ کرسکا۔
یہ جملہ سننے میں جتنا دلچسپ ہے، حقیقت میں اتنا ہی سطحی بھی ہے۔
پاکستان نے ایٹمی صلاحیت حاصل کی—یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ عالمی دباؤ، معاشی پابندیاں، اور سفارتی تنہائی کے باوجود ہم نے یہ کارنامہ انجام دیا۔ مگر کیا یہ سب “لیٹے لیٹے” ہوا؟ ڈاکٹر عبد القدیر خان اور ان جیسے بے شمار سائنسدانوں کی محنت، خفیہ منصوبہ بندی، اور ریاستی عزم کو اگر ہم ایک طنزیہ جملے میں سمیٹ دیں تو یہ ناانصافی ہوگی۔
دوسری طرف ایران ہے۔ ایران نے ایٹم بم نہیں بنایا—کم از کم ابھی تک نہیں بنایا۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران ناکام ہے؟ ایران نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ اس نے علاقائی اثرورسوخ بڑھایا، پراکسی نیٹ ورکس بنائے، اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں اپنی جگہ مضبوط کی۔ وہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست ٹکر میں بھی آیا اور کھڑا بھی رہا—یہ بھی ایک حقیقت ہے۔
اصل سوال یہ ہے: کامیابی کی تعریف کیا ہے؟
اگر کامیابی صرف ایٹم بم ہے تو پھر شمالی کوریا بھی کامیاب ہے۔ اگر کامیابی معیشت ہے تو پھر جاپان اور جرمنی ہم سب سے آگے ہیں۔ اگر کامیابی خودداری ہے تو پھر ہر قوم اپنی کہانی خود لکھتی ہے۔
ہم اکثر تقابل میں انصاف نہیں کرتے۔ ہم کہتے ہیں پاکستان نے طیارہ سازی کی، دفاعی صنعت کھڑی کی—بالکل درست۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہمیں دہائیوں تک بیرونی امداد، اتحادی حیثیت، اور عالمی نظام میں ایک مخصوص جگہ حاصل رہی۔ ایران کو اس کے برعکس مسلسل سخت پابندیوں، سفارتی تنہائی اور اقتصادی دباؤ کا سامنا رہا۔
ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ ایران کی فضائیہ کمزور ہے۔ یہ بھی درست ہے۔ مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ایران نے اپنی حکمتِ عملی بدل لی—اس نے میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون وارفیئر، اور غیر روایتی جنگی صلاحیتوں پر توجہ دی۔ یعنی میدان بدلا، کھیل بدلا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم کہانی کو سادہ بنانا چاہتے ہیں—ہیرو اور ولن، جیت اور ہار، لیٹنا اور کھڑا ہونا۔
حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
پاکستان کی اپنی کامیابیاں ہیں، اپنی ناکامیاں بھی۔ ایران کی اپنی مضبوطیاں ہیں، اپنی کمزوریاں بھی۔ دانشمندی یہ نہیں کہ ہم ایک کو فرشتہ اور دوسرے کو شیطان بنا دیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم دونوں کی کہانی سے سیکھیں۔
قومیں نعروں سے نہیں، حقیقت پسندی سے آگے بڑھتی ہیں۔
تو سوال یہ نہیں کہ کون لیٹا ہوا ہے اور کون کھڑا ہے…
اصل سوال یہ ہے کہ کون آگے بڑھ رہا ہے، اور کون وہیں کھڑا رہ گیا ہے۔
کوئی تبصرے نہیں