تحریر۔حافظ شفقت حماز گھمن معاشرے کی تہوں میں بعض ایسے حقائق بھی چھپے ہوتے ہیں جو بظاہر نظر نہیں آت...
تحریر۔حافظ شفقت حماز گھمن
معاشرے کی تہوں میں بعض ایسے حقائق بھی چھپے ہوتے ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتے، مگر جب وہ اچانک کسی واقعے کی صورت میں سامنے آتے ہیں تو ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ یہ واقعات ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم اپنے اجتماعی رویوں، اپنی ترجیحات اور اپنے دعوؤں کا ازسرِنو جائزہ لیں۔ بسا اوقات ہم ایک ایسے سماجی ڈھانچے میں زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں جس کی ظاہری صورت مذہبیت اور پارسائی کی چادر اوڑھے ہوتی ہے، مگر اس کے باطن میں کئی ایسی قباحتیں پنپ رہی ہوتی ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے باعثِ ندامت ہیں۔
چند روز قبل ضلع بنوں کی تحصیل ڈومیل میں پیش آنے والا ایک اندوہناک واقعہ اسی نوعیت کی ایک کڑوی حقیقت کو بے نقاب کر گیا۔ اطلاعات کے مطابق ایک پندرہ سالہ لڑکی کو شدت پسند عناصر نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے کی ویڈیو جب منظر عام پر آئی تو دل دہل اٹھے۔ پاکستان کی معروف سکواش کھلاڑی ماریہ طورپکئی نے اس معاملے پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا اور نہایت بنیادی مگر اہم سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ عناصر جو خود کو مذہب کا علمبردار اور شریعت کا نگہبان ظاہر کرتے ہیں، ایک کمسن بچی کے گھر سے باہر نکلنے یا روزگار اختیار کرنے پر تو اعتراض کرتے ہیں، مگر وہی لوگ معاشرے میں پھیلی بدترین سماجی برائیوں، خصوصاً بچوں کے جنسی استحصال اور بچہ بازی کے مسئلے پر خاموش کیوں رہتے ہیں؟
یہ سوال دراصل ہمارے اجتماعی ضمیر سے مخاطب ہے۔
کچھ عرصہ قبل جب معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک پاکستان تشریف لائے تو ایک تقریب میں لکی مروت سے تعلق رکھنے والی ایک بچی نے نہایت سادہ مگر نہایت گہرا سوال اٹھایا۔ اس نے کہا کہ ہمارے علاقے میں لوگ پابندی سے نماز ادا کرتے ہیں، باجماعت عبادت کرتے ہیں، روزے رکھتے ہیں اور مذہبی رسومات کی ادائیگی میں پیش پیش رہتے ہیں۔ مگر اسی معاشرے میں بچوں کے جنسی استحصال اور بچہ بازی جیسے مکروہ جرائم بھی موجود ہیں۔ اگر یہ صورت حال برقرار رہے تو کیا محض عبادات کی ادائیگی سے کسی معاشرے کو حقیقی معنوں میں اسلامی قرار دیا جا سکتا ہے؟
یہ سوال محض ایک معصوم بچی کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کے سامنے رکھا ہوا ایک آئینہ ہے۔
اسلام صرف عبادات کے مجموعے کا نام نہیں۔ یہ ایک ہمہ گیر ضابطۂ حیات ہے جس میں عدل، اخلاق، انسانی وقار اور کمزور طبقات کے تحفظ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اگر کسی معاشرے میں معصوم بچے ہی محفوظ نہ ہوں، اگر کمزور افراد ہی ظلم کا نشانہ بنیں تو پھر اس معاشرے کی مذہبیت محض ایک ظاہری خول بن کر رہ جاتی ہے۔
پشتون بیلٹ کے بعض علاقوں میں ایک اصطلاح رائج ہے — “تیز پری”۔ بظاہر یہ ایک عام سا لفظ ہے، مگر اس کے پس منظر میں ایک المناک حقیقت پوشیدہ ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق ایسے بچے جو استحصال اور جبر کا شکار ہوتے ہیں، بعد ازاں شدت پسند گروہوں کے ہاتھوں ذہنی طور پر مسخ کر دیے جاتے ہیں۔ ان کے ذہنوں کو اس طرح بدل دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی معصوم شناخت کھو بیٹھتے ہیں اور انہیں دہشت گردی کے آلۂ کار کے طور پر استعمال کیا جانے لگتا ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2006 کے بعد تقریباً 480 کمسن بچوں کو مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں اور خودکش حملوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ 2004 کے بعد وزیرستان اور ملحقہ علاقوں میں شدت پسند تنظیموں نے جڑیں مضبوط کیں۔ نیک محمد وزیر، عبداللہ محسود، بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود، خان سعید سجنا اور موجودہ ٹی ٹی پی سربراہ نور ولی محسود جیسے نام اسی پس منظر میں سامنے آئے۔ قاری حسین کو کم عمر بچوں کو خودکش حملوں کی تربیت دینے کے حوالے سے خاص شہرت حاصل رہی۔
یہاں ایک بنیادی سوال ابھرتا ہے:
کیا کوئی بچہ شعوری طور پر خودکش حملہ آور بنتا ہے؟ کیا کوئی کمسن ذہن ازخود موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کرتا ہے؟ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اکثر اوقات ایسے بچے استحصال، خوف اور ذہنی جبر کے زیر اثر اس راستے پر دھکیلے جاتے ہیں۔
یہ المیہ برسوں تک جاری رہا۔ ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا، بے شمار معصوم جانیں ضائع ہوئیں۔ بعد ازاں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاک فوج نے بے مثال قربانیاں دیں اور بڑے فوجی آپریشنز کے ذریعے ان علاقوں میں امن کی بحالی کی کوشش کی۔
تاہم آج بھی ایک اہم سوال باقی ہے۔
کیا ہم نے بطور معاشرہ کبھی سنجیدگی سے بچوں کے استحصال کے خلاف آواز بلند کی؟ کیا ہم نے یہ کوشش کی کہ ہماری آنے والی نسلیں اس لعنت سے محفوظ رہ سکیں؟
حالیہ دنوں میں ایک نوجوان سماجی کارکن حیات پریغال بنوں، لکی مروت اور وزیرستان کے علاقوں میں بچہ بازی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ یہ ایک قابلِ تحسین اقدام ہے۔ اگرچہ یہ آواز تاخیر سے بلند ہوئی ہے، مگر اس کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔
درحقیقت یہ مسئلہ محض سماجی اصلاح کا نہیں بلکہ معاشرتی بقا کا بھی ہے۔ اگر معاشرہ اپنے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے تو اس کی تمام تر ترقی اور مذہبیت کے دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔
اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
ہم یا تو خاموشی کی چادر اوڑھے رہیں، یا پھر اپنے ضمیر کی آواز سن کر اس مکروہ سلسلے کے خاتمے کے لیے متحد ہو جائیں۔
کیونکہ ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس کی عبادت گاہوں کی رونق سے نہیں، بلکہ اس کے کمزور اور معصوم افراد کے تحفظ سے ہوتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں