Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

پسرور گیپکو حکام کی سفاک غفلت اٹھارہ سالہ مزدور کو زندہ تاروں کے حوالے کر دیا ۔

 ⚡️ پسرور میں گیپکو کی سفاک غفلت، 18 سالہ مزدور کو زندہ تاروں کے حوالے کر دیا گیا بجلی بند کیے بغیر کھمبے پر چڑھا دیا، کرنٹ نے جوانی نگل لی،...


 ⚡️ پسرور میں گیپکو کی سفاک غفلت، 18 سالہ مزدور کو زندہ تاروں کے حوالے کر دیا گیا

بجلی بند کیے بغیر کھمبے پر چڑھا دیا، کرنٹ نے جوانی نگل لی، ایف آئی آر غائب!

پسرور (نمائندہ سیال کوٹ 24)

پسرور کے علاقے کوٹلی حاجی پور، بن باجوہ فیڈر ایک اور غریب کی قبر بن گیا۔ مبینہ طور پر گیپکو کے افسران و ملازمین کی مجرمانہ لاپرواہی نے 18 سالہ پردیسی مزدور کی زندگی نگل لی، مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اتنا بڑا سانحہ ہونے کے باوجود ذمہ داروں کے خلاف تاحال ایف آئی آر درج نہ ہو سکی۔

ذرائع کے مطابق ملتان سے روزگار کی تلاش میں آنے والے نوجوان رانجھا ولد رحیم بخش کو بن باجوہ فیڈر پر کام کے لیے کھمبے پر چڑھایا گیا، حالانکہ اصول کے مطابق پہلے بجلی بند کروانا لازم تھا۔ مگر گیپکو افسران نے نہ پرمٹ لیا، نہ بجلی بند کروائی—اور غریب مزدور کو براہِ راست موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ نوجوان اوپر پہنچتے ہی مین تاروں سے چپک گیا اور کرنٹ لگنے سے موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا۔

اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ نہیں، قتلِ بالقصد کا سبب ہے۔ شہریوں کے مطابق اگر یہی جرم کوئی عام آدمی کرتا تو اب تک حوالات میں ہوتا، مگر چونکہ معاملہ گیپکو افسران کا ہے اس لیے سب “پیٹی بھائی” بن کر ایک دوسرے کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔

علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پسرور اور گردونواح میں غیر قانونی بجلی کے جال عام ہیں، جو آئے روز انسانی جانیں نگل رہے ہیں، مگر گیپکو افسران کے لیے یہ سب “قابلِ برداشت” ہے۔ بجلی چوری اگر عوام کریں تو چھاپے، جرمانے اور مقدمات—لیکن اگر محکمہ خود کرے یا اس کی غفلت سے جان چلی جائے تو معاملہ دبا دیا جاتا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 322 کے تحت واضح طور پر قابلِ سزا جرم ہے، مگر کئی دن گزرنے کے باوجود مقدمہ درج نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ غریب کی جان کی کوئی قیمت نہیں۔ ایک ماں کی گود اجڑ گئی، ایک گھر کا چراغ گل ہو گیا، مگر افسران کی کرسی سلامت ہے۔

پسرور کی فضا سوگوار ہے اور عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے اور ذمہ دار گیپکو افسران و ملازمین کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

عوامی حلقوں نے ایس ای گیپکو سیالکوٹ، چیف گیپکو گوجرانوالہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اویس لغاری اور میاں محمد شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کا سخت نوٹس لیں، ورنہ پسرور کے عوام سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے۔

کوئی تبصرے نہیں