چودھری اکبر علی گھمن — ایک شخصیت، ایک عہد (1943ء — 2024ء) تحریر: حافظ شفقت حماز گھمن وقت گزر تو جاتا ہے… مگر کچھ جدائیاں وقت کے ساتھ پرانی ...
چودھری اکبر علی گھمن — ایک شخصیت، ایک عہد
(1943ء — 2024ء)
تحریر: حافظ شفقت حماز گھمن
وقت گزر تو جاتا ہے… مگر کچھ جدائیاں وقت کے ساتھ پرانی نہیں ہوتیں، اور کچھ آوازیں دل کے کسی کونے میں ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاتی ہیں۔ آج والدِ گرامی کو ہم سے جدا ہوئے دو برس بیت گئے ہیں، مگر دل ہے کہ ماننے کو تیار ہی نہیں۔ قدرت ہر زخم پر مرہم رکھ دیتی ہے، مگر ماں باپ کی جدائی ایسا دکھ ہے جس کی ٹیس عمر بھر ساتھ چلتی ہے۔
والدین… یہ صرف رشتے نہیں ہوتے، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ انمول نعمت ہوتے ہیں جن کا کوئی بدل نہیں۔ چودھری اکبر علی گھمن میرے لیے صرف ایک باپ نہیں تھے — وہ میری دنیا تھے، میری رہنمائی تھے، میرا حوصلہ تھے… اور سب سے بڑھ کر میرے بہترین دوست تھے۔
مجھے آج بھی وہ دن یاد ہیں جب میں نے ہوش سنبھالا تو ابو جی کو ایک معلم کے روپ میں پایا۔ گورنمنٹ سٹی سکول شاہ بین گیٹ کے اساتذہ میں ان کا ایک الگ وقار تھا۔ سادہ سی سائیکل پر ڈیوٹی کے لیے جانا، وقت کی پابندی، اور چہرے پر مستقل وقار — یہ سب مناظر آج بھی آنکھوں میں زندہ ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے محکمہ تعلیم میں لرننگ کوآرڈینیٹر کے طور پر بھی اپنی ذمہ داریاں نہایت دیانت سے نبھائیں۔
گاؤں کوٹلی حاجی پور کے وہ دن کبھی نہیں بھولتے۔ اگر ابو جی کبھی دیر سے گھر پہنچتے تو دادا ابو چودھری محمد شفیع گھمن کی ہلکی سی ڈانٹ سننے کو ملتی، مگر میں نے کبھی والدِ گرامی کو جواب دیتے نہیں دیکھا۔ سر جھکا کر ادب سے بات سن لینا — یہ ان کی فطرت تھی، اور یہی ادب انہوں نے اپنی اولاد کو ورثے میں دیا۔
آج جب ہم بھائی خود باپ بن چکے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ابو جی نے ہمیں صرف پالا نہیں، ہمیں تربیت دی تھی۔ میرے بڑے بھائی سہیل اکبر گھمن ہوں یا شاہد رسول گھمن اور زاہد رسول گھمن — ہم سب نے ہمیشہ ابو جی کے سامنے وہی ادب دیکھا جو ایک چھوٹا بچہ اپنے باپ کے سامنے اختیار کرتا ہے۔ اگر وہ ناراضی کا اظہار کرتے تو جواب میں صرف یہی سنائی دیتا:
“جی ابو جی، جیسے آپ حکم کریں۔”
زندگی کے آخری ایام میں برادرم شاہد رسول گھمن نے جس محبت اور دل سوزی سے والدِ گرامی کی خدمت کی، وہ یقیناً اللہ کے ہاں ضائع نہیں جائے گی۔ زاہد رسول گھمن کا بھی ان سے والہانہ تعلق تھا۔ مگر ایک بات سب میں مشترک تھی — جب بھی ابو جی سے کوئی مشکل بات منوانی ہوتی، سب کہتے:
“حافظ صاحب سے کہو… ابو جی ان کی بات نہیں ٹالتے۔”
یہ میرے لیے فخر بھی ہے اور ایک ایسی یاد بھی… جو اب آنکھیں نم کر دیتی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ میرے والد میرے باپ سے بڑھ کر میرے دوست تھے۔ میں نے زندگی کے راز، اپنی الجھنیں، اپنے خواب — سب کچھ ان سے شیئر کیا۔ انہوں نے کبھی میری بات کو ٹھکرایا نہیں۔ اکثر میں ادب سے عرض کرتا:
“ابو جی، میرا خیال تو یہ ہے… مگر آپ جو بہتر سمجھیں وہی ہوگا۔”
اور وہ مسکرا کر کہتے:
“تم ٹھیک کہتے ہو بیٹا… ایسے ہی کر لیتے ہیں۔”
آج وہ جملہ سننے کو دل ترس جاتا ہے۔
والدِ گرامی کی بے شمار خوبیاں تھیں، مگر ان کی خود احتسابی نے مجھے ہمیشہ حیران کیا۔ ایک دن مجھے پاس بلا کر کہنے لگے:
“بیٹا، اگر کبھی میں بڑھاپے میں کوئی غلط بات کہہ جاؤں تو مجھے اکیلے میں بتا دینا… میں نہیں چاہتا کہ اللہ کے ہاں جواب دہ بنوں۔”
کیا آج کے زمانے میں ایسی عاجزی باقی ہے؟
انہیں اذان سے بے حد محبت تھی۔ جب چلنے سے معذور ہو گئے تو بھی موٹر سائیکل پر مسجد جانا نہیں چھوڑا۔ فکر یہ ہوتی کہ کہیں کوئی اور ان سے پہلے اذان نہ دے دے۔ جامع مسجد غنی ٹمبر مارکیٹ، جامع مسجد عائشہ اسلام پورہ اور جامع مسجد اسماعیل پسرور — یہ مسجدیں آج بھی ان کی آواز کی گواہ ہوں گی۔
وہ توحید کے معاملے میں بے لچک اور معاملات میں بے حد صاف گو تھے۔ اپنی زندگی میں ہی جائیداد اولاد میں تقسیم کر دی تاکہ بعد میں کوئی دل آزاری نہ ہو۔ اپنے والدین کے ایصالِ ثواب کا خاص اہتمام کرتے، باقاعدگی سے ان کی قبور پر جاتے، اور پوتوں کو بھی ساتھ لے جاتے۔
نماز میں جب “ربنا اغفر لی ولوالدیّ” پر پہنچتے تو آواز بھرّا جاتی اور اسے بار بار دہراتے۔ ہمیں ہمیشہ باجماعت نماز کی تلقین کرتے۔ وہ واقعی ایک مثالی باپ تھے… اور ایک سچے انسان بھی۔
ان کے آخری سفر کا منظر آج بھی آنکھوں کے سامنے ہے۔ ایلیمنٹری کالج کا گراؤنڈ نمازیوں سے بھرا ہوا تھا۔ یہ ہجوم نہیں تھا — یہ محبت کا سمندر تھا، جو ایک نیک انسان کو الوداع کہنے آیا تھا۔
آج دو سال بعد بھی دل یہی گواہی دیتا ہے کہ میں نے صرف اپنے والد نہیں کھوئے… میں نے اپنا سب سے مخلص دوست کھویا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ میرے والدِ گرامی چودھری اکبر علی گھمن کو اپنی بے پایاں رحمتوں میں جگہ عطا فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔
آمین یا رب العالمین۔

کوئی تبصرے نہیں