Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

کیا ہمیں اپنی خود احتسابی نہیں کرنی چاہیے ؟۔حافظ شفقت حماز گھمن

 کیا ہمیں اپنی خود احتسابی نہیں کرنی چاہیے ؟                   حافظ شفقت حماز گھمن۔   پاکستان میں بعض تحریریں صرف الفاظ نہیں ہوتیں، وہ عہدِ ...

 کیا ہمیں اپنی خود احتسابی نہیں کرنی چاہیے ؟

                  حافظ شفقت حماز گھمن۔  

پاکستان میں بعض تحریریں صرف الفاظ نہیں ہوتیں، وہ عہدِ حاضر کا نوحہ بن جاتی ہیں۔ شیخ ادریسؒ کی میت اٹھانے کے بعد اگر سوال صرف آنسوؤں تک محدود رہے تو پھر تاریخ کبھی کسی کو معاف نہیں کرتی۔ سوال یہ نہیں کہ قاتل کون تھا، سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی غلطیاں تھیں جنہوں نے اس سرزمین کو اپنے ہی لوگوں کے خون سے رنگ دیا؟

جناب عامر ہزاروی نے اپنے طبقے کے سامنے جو سوال رکھا، وہ دراصل ایک پورے عہد کے گریبان پر ہاتھ ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ قاتلوں کے بارے میں ذہنی طور پر واضح ہیں؟ میں سمجھتا ہوں یہ سوال صرف ایک شخصیت یا ایک جماعت سے نہیں، بلکہ پورے ریاستی اور مذہبی ڈھانچے سے کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ قومیں صرف لاشیں دفنانے سے نہیں بچتیں، وہ اپنے زخموں کی وجوہات تلاش کرکے زندہ رہتی ہیں۔

پاکستان میں بدامنی کو اکثر وقتی بخار سمجھا گیا۔ کبھی اسے چند شدت پسند گروہوں کا مسئلہ کہا گیا، کبھی بیرونی سازش قرار دے کر فائل بند کردی گئی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ آگ برسوں سے سلگ رہی تھی اور ہم سب اپنے اپنے دائروں میں اسے ہوا دیتے رہے۔ ریاست نے اسے سکیورٹی ایشو سمجھا، مذہبی طبقات نے اسے نظریاتی معرکہ جانا، جبکہ عوام صرف لاشیں گنتے رہے۔

افغانستان کے باب میں بھی ہمیں دیانت داری سے خود احتسابی کرنا ہوگی۔ ایک معزز وفد کابل گیا تھا تاکہ دو مسلمان ممالک کے درمیان فاصلے کم ہوسکیں۔ اس وفد میں شیخ ادریسؒ جیسے لوگ شامل تھے، جنہیں افغان طالبان صرف عالم نہیں بلکہ استاد کا درجہ دیتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اُس وقت ان سفید ریش شخصیات کی بات مان لی جاتی تو کیا آج یہ خطہ اتنے شعلوں میں گھرا ہوتا؟ کیا یہ بہتر نہ تھا کہ چند مسلح گروہوں کو قابو کرکے دو ریاستوں کو تصادم سے بچا لیا جاتا؟

آج چین کے دباؤ پر کابل آہستہ آہستہ انہی نکات کی طرف آرہا ہے جن کی دہائی وہ وفد برسوں پہلے دے رہا تھا۔ تاریخ اکثر یہی ثابت کرتی ہے کہ بروقت سن لیا جائے تو جنگیں رک جاتی ہیں، مگر انا جب فیصلے کرنے لگے تو نسلیں قیمت ادا کرتی ہیں۔

اس جنگ میں علماء کی قربانیاں کسی سے کم نہیں رہیں۔ فوج کا کام سرحد پر لڑنا ہے، اس کے لیے وہ تربیت یافتہ بھی ہوتی ہے اور ریاستی پشت پناہی بھی رکھتی ہے، مگر علماء نے اپنی مساجد، مدارس اور گھروں سے نکل کر جو قیمت چکائی، وہ کہیں زیادہ بھاری تھی۔ ہزاروں جنازے، سینکڑوں شہادتیں، اور خوف کے سائے میں گزرتی زندگیاں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کبھی ریاستی قیادت نے اس طبقے کے پاس جا کر صرف اتنا کہا کہ “ہم آپ کے احسان مند ہیں”؟

ریاست ہمیشہ فرد پر مقدم ہوتی ہے۔ اسلامی تاریخ بھی یہی سبق دیتی ہے۔ امام ابو حنیفہؒ ہوں یا امام احمد بن حنبلؒ، انہوں نے ظلم برداشت کیا مگر خانہ جنگی کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ مگر اس اصول کے ساتھ ایک دوسرا اصول بھی جڑا ہوا ہے کہ ریاست اپنی غلطیوں کا جائزہ لے۔ اگر آگ پورے گھر کو جلا رہی ہو تو صرف شہریوں کو صبر کی تلقین کافی نہیں ہوتی، حکمرانوں کو بھی آئینے میں خود کو دیکھنا پڑتا ہے۔

دو ہزار تیرہ میں مفاہمت کا ایک موقع پیدا ہوا تھا۔ بعض حلقے سمجھتے تھے کہ معاملات مذاکرات سے سلجھ سکتے ہیں، مگر طاقت کے نشے میں یہ گمان کیا گیا کہ چند ماہ کی کارروائی سب کچھ ختم کردے گی۔ نتیجہ کیا نکلا؟ آگ بجھنے کے بجائے پورے خطے میں پھیل گئی۔ آج اگر دہشت گردی کا دیو دوبارہ سر اٹھا رہا ہے تو سوال صرف بندوق اٹھانے والوں سے نہیں، ان فیصلہ سازوں سے بھی ہونا چاہیے جنہوں نے غلط اندازے لگائے۔

دوسری طرف ٹی ٹی پی اور اس جیسی تنظیموں کو بھی تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے جہاد جیسے حساس تصور کو اس طرح مجروح کیا کہ پوری دنیا میں اس لفظ کے معنی بدل گئے۔ کل تک جو قوتیں “مجاہد” کہلاتی تھیں، آج عالمی بیانیے میں دہشت گرد کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ یہ نقصان صرف پاکستان یا افغانستان کا نہیں، پورے عالمِ اسلام کا ہوا۔

پاکستان کا مذہبی طبقہ خصوصاً مکتبِ دیوبند ہمیشہ ریاست کے ساتھ کھڑا رہا۔ اس نے خود کو باغی کے بجائے محافظ سمجھا۔ مگر اب وقت آگیا ہے کہ یہ طبقہ جذبات کے بجائے حکمت کے ساتھ فیصلے کرے۔ کیونکہ جب بھی ردعمل کی آندھی چلتی ہے، سب سے پہلے اسی طبقے کے چراغ بجھتے ہیں۔ دو ہزار ایک کے بعد کے حالات اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ مشکل وقت میں ریاست اکثر اپنے مفادات کے مطابق راستہ بدل لیتی ہے جبکہ مذہبی حلقے عالمی دباؤ، پابندیوں اور بدنامی کا بوجھ اٹھاتے رہتے ہیں۔

آج ایک بار پھر کشمیر کے محاذ پر نئی سرگرمیوں کی خبریں آرہی ہیں۔ نوجوان پھر جذباتی نعروں کے سحر میں اپنی زندگیاں داؤ پر لگا رہے ہیں۔ مگر کیا کسی نے ان سے پوچھا کہ پچھلے پچاس برس کا حاصل کیا نکلا؟ کتنے گھر اجڑے؟ کتنے خواب دفن ہوئے؟ اور آخر اسلام، کشمیر اور پاکستان کو اس سے ملا کیا؟

قومیں صرف جذبات سے نہیں چلتیं، قومیں تجربات سے سیکھتی ہیں۔ اگر ہر نسل کو وہی غلطیاں دہرانا پڑیں تو پھر تاریخ کتاب نہیں، سزا بن جاتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں