Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

کابل سے گزارش

                                    تحریر۔حافظ شفقت حماز گھمن  خطے کی سیاست میں بعض اوقات لفظوں کی ترتیب بھی معنی کے نئے دریچے کھول دیتی ہے۔...

                                    تحریر۔حافظ شفقت حماز گھمن



 خطے کی سیاست میں بعض اوقات لفظوں کی ترتیب بھی معنی کے نئے دریچے کھول دیتی ہے۔ حالیہ دنوں اسلام آباد کے ایوانوں سے جو پیغام کابل کی سمت روانہ ہوا، اس میں بظاہر سفارتی توقع کا لفظ تھا مگر اس کے اندر ایک امید، آرزو اور مطالبہ کی گونج بھی سنائی دیتی تھی۔ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ وہ اپنی سلامتی، تحفظ اور بقا کے معاملے میں کسی قسم کی مصلحت، رعایت یا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ یہ بات نئی نہیں مگر حالات کے آئینے میں اس کی اہمیت، وزن اور معنویت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مزاج میں ہمیشہ ایک خواہش، آرزو اور تمنا رہی ہے کہ پڑوس میں امن، استحکام اور خوش حالی کا چراغ روشن رہے۔ افغانستان کے لیے بھی یہی سوچ کارفرما ہے۔ اسلام آباد نے کابل کے ساتھ رابطے، تعلقات اور مکالمے کے دروازے کھلے رکھے ہیں تاکہ کسی تنازع، اختلاف یا کشیدگی کو گفتگو کے ذریعے سلجھایا جا سکے۔ سفارت کاری کی یہی روایت مہذب ریاستوں کا طریقہ، اسلوب اور دستور بھی سمجھی جاتی ہے۔

مگر مسئلہ یہ ہے کہ الفاظ کی دنیا سے نکل کر جب حقیقت کے میدان میں قدم رکھا جائے تو منظر کچھ اور دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کے سکیورٹی خدشات، تحفظاتی اندیشے اور سلامتی کے خطرات محض کاغذی اصطلاحات نہیں بلکہ زمینی حقیقتیں ہیں۔ دہشت گردی کی جو لہریں، یلغاریں اور وارداتیں گزشتہ برسوں میں دیکھنے کو ملیں، انہوں نے خطے کے امن کو بری طرح متاثر کیا۔ اسلام آباد کا مؤقف یہی ہے کہ افغانستان کی سرزمین، دھرتی اور حدود کسی بھی صورت پاکستان کے خلاف دہشت گردی، تخریب کاری یا شورش کے لیے استعمال نہ ہوں۔

یہاں سوال صرف پاکستان کا نہیں۔ افغانستان میں موجود مسلح گروہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی خطرہ، اندیشہ اور چیلنج بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد بار بار کابل سے یہ کہتا رہا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر، ٹھوس اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔ کیونکہ اگر یہ آگ ایک سرحد پر بھڑکے گی تو اس کی چنگاریاں، لپٹیں اور شعلے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

پاکستان کا مؤقف آج بھی وہی ہے جو کل تھا: ہم امن، مصالحت اور سفارت کاری کے قائل ہیں۔ جنگ اور کشیدگی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتیں۔ مگر اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ ریاست کی خودمختاری، وقار اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہی اصول ہر آزاد ملک کی شناخت، اساس اور بنیاد ہوتا ہے۔

یوں کابل کے نام پاکستان کا پیغام دراصل ایک درخواست، نصیحت اور تنبیہ تینوں کا مجموعہ ہے۔ درخواست اس لیے کہ پڑوسی ہونے کے ناتے امن سب کے مفاد میں ہے، نصیحت اس لیے کہ دہشت گردی کی آگ سب کو جلا دیتی ہے، اور تنبیہ اس لیے کہ اگر سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو ریاست اپنی دفاعی حکمت عملی، حفاظتی تدبیر اور عملی اقدام سے گریز نہیں کرے گی۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھ لینا ہی خطے کے امن کی سب سے بڑی ضمانت ہو سکتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں