تاریخِ پسرور، آستانہ عالیہ ملک ٹینٹ سروس ابنِ آدم پسروری پسرور کی چشم دید تاریخ میں 1970 سے لے کر 2010 یعنی 40 سال کا عرصہ سیاسی وسماجی لح...
تاریخِ پسرور، آستانہ عالیہ ملک ٹینٹ سروس
ابنِ آدم پسروری
پسرور کی چشم دید تاریخ میں 1970 سے لے کر 2010 یعنی 40 سال کا عرصہ سیاسی وسماجی لحاظ سے بہت اہم ہے اس دوران سقوطِ ڈھاکہ، تحریکِ ختمِ نبوت، تحریک نظامِ مصطفیٰ، سعودی فرمانروا شاہ فیصل کی شہادت، ضیا الحق کا مارشل لا، ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا، انقلابِ ایران، افغانستان میں روسی افواج کی آمد، خانہ جنگی، طواٸف الملوکی اور افغانستان میں امریکہ کی آشیر آباد سے ”جہاد“ کا آغاز جیسے اہم واقعات نے دنیا کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔
1980 تک پاکستان کے حکمران، سیاستدان اور بیوروکریٹ کرپٹ نہیں تھے اور جو رشوت لیتا تھا لوگ اس کا یہ کہہ کر سماجی باٸیکاٹ کردیتے تھے کہ فلاں شخص وڈّی (رشوت) کھاتا ہے اس لیے ہمارا اس سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے اور پاکستانی قوم اسلحہ اور منشیات کے کلچر سے بھی ناآشنا تھی۔ معاشرے میں خلوص، رواداری، ہمدردی، غم گساری، انصاف اور رشتوں کا احترام قاٸم تھا۔ لڑاٸی جھگڑے، گالم گلوچ، عدم برداشت اور چھینا جھپٹی نہ ہونے کے برابر تھی۔ پسرور میں شعروادب کی محافل، جلسے، جلوس، اجتماعی بیٹھکیں اور میل جول کا سلسلہ جاری تھا، ہمارے دیہات میں ایک ایک مسجد قاٸم تھی جہاں تمام مسالک کے لوگ نماز پڑھتے تھے، جمعہ کی نماز صرف ان شہروں اور قصبات میں پڑھی جاتی تھی جہاں چالیس یا اس سے زاٸد دکانیں تھیں۔ پسرور شہر میں مسلکی ہم آہنگی کی فضا قاٸم تھی، تمام مسالک کے علما اور ذاکرین عید میلاد النبی اور محرم کے جلوس نکالتے تھے اور مختلف تحریکوں میں مشترکہ طور پر شرکت کرتے تھے۔ پسرور شہر میں پڑھے لکھے اور باشعور نوجوانوں کا سب سے بڑا مرکز ملک ٹینٹ سروس پُرانا لاری اڈہ پسرور تھا۔
اسے آپ حُسنِ اتفاق کہیں یا قدرت کا کرشمہ کہ یہاں بیٹھنے والے 100 سے زاٸد لوگ اپنے اپنے شعبے میں انتہاٸی کامیاب اور کامران رہے۔
ملک ٹینٹ سروس کے پروپراٸیٹر یا مالک نواحی محلہ مل لالو کے ملک سردار علی اور ان کے پسران ملک شہباز احمد، ملک اعجاز احمد، ملک فیاض احمد، ریاض احمد اور سرفراز احمد تھے ان میں سے شہباز احمد ایٸر فورس میں ملازمت کرنے کے بعد واپس آچکے تھے۔ وہ بلدیاتی الیکشن میں کونسلر منتخب ہوٸے۔ وہ رساٸل اور ڈاٸجسٹ پڑھنے کے شوقین تھے۔ یہ فیملی اینٹی پیپلز پارٹی تھی اور ان کی سیاسی وابستگی جماعت اسلامی اور پاکستان قومی اتحاد کے ساتھ تھی۔
اس دور میں ملک ٹینٹ سروس پر جن لوگوں کا اٹھنا بیٹھنا تھا ان میں امیر جماعتِ اسلامی پسرور حکیم عبداللطیف مالی پوری، ممبر ضلع کونسل فیض احمد ڈوگر، شیخ اکرم علی خان ایڈووکیٹ، چودھری احسان اللہ ایڈووکیٹ، سابق گرداور میاں ابراہیم، چیرمین بلدیہ میاں حامد نواز، شیخ عبدالغنی رینجرز، بارک اللہ خان، چودھری سرور روپو چک، چودھری غلام احمد آف روپو چک، سابق ایم این اے صاحبزادہ محمد احمد، مولانا صوفی محمد اقبال، صوفی عبدالحق، رانا محمد اقبال (عظیم منزل والے)، رانا ارشد کرکٹر، چودھری رحمت جٹ، زاہد ندیم سندھو، چودھری مالک باجوہ، گردوار چودھری غلام قادر، حاجی عطا اللہ، اکرام گرداور، عظیم احمد سیکرٹری، اسلم باجوہ سیکرٹری اچا پہاڑنگ، صاحبزادہ محمد جی، لالہ ظہیر احمد ، لالہ نصیر احمد آف نوشہرہ ککے زٸیاں ، باٶ خالد مسعود آف موسیٰ پور، علامہ عقیل احمد ظہیر، ڈی ایس پی ذوالفقار ملک، حکیم صفدر آف بھلیر، مشتاق احمد بھٹی، محمد امین بھٹی، ملک منظور حسین آف نوشہرہ، الفت گھمن ، چودھری لال باجوہ آف نیا بن باجوہ اور ان کے صاحبزادے عاشق باجوہ اور اعظم باجوہ، چودھری الیاس وڑاٸچ، بابا جی عبداللہ آف بھلر، چودھری بشیر گڈگور، رانا سلیم آف ہچڑ، چودھری احمد دین آف جاجو پور، چودھری منظور احمد چاند، چودھری فیض احمد آف جھانس، مرزا عبدالقیوم (چیرمین فیصل الیکٹرک کمپنی)، سابق بینک آفیسرز چودھری رحمت علی آف لپے والی، شیخ فاروق احمد، لالہ ظہیر احمد، سابق آر پی او احمد مبارک ، سابق ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ منور سعید بھٹی آف وَینس، سابق سپرنٹنڈنٹ کسٹمز زاہد توقیر، سابق کونسلر امانت علی ٹوانہ، نعمت علی گل، شاید ٹوانہ، گورنمنٹ کنٹریکٹر اختر زمان خان، سابق جنرل مینجر عمراک گلاس سرور مغل، سابق سی ایس پی آفیسر خواجہ محسن رضا، سابق صدر مسلم لیگ ن تحصیل پسرور محمد ساجد مرزا اور ان کے بڑے بھاٸی خالد سعید مرزا، میڈیکل پریکٹیشنرز ڈاکٹر محمد امجد، ڈاکٹر محمد ارشد، سابق کونسلر پاپا مقصوداحمد، غلہ منڈی کے تاجر محمد الیاس بٹ، ملت ٹریکٹرز کے آفیسر شیخ قیصر محمود، سعودیہ میں بسلسلہ روزگار مقیم سید اعتزاز بخاری، مولوی اختر سلیم، ملک طارق اعجاز، چاچا ارشد ناگرہ، سابق واٸس چیرمین ضلع کونسل ناصر علی گل، سبزی منڈی کے تاجر مہر محمد عاشق، سابق چیرمین یوسی موسیٰ پور ذوالفقار علی باجوہ اور ان کے بھاٸی وارث علی باجوہ، سابق ایم ایل اے چودھری مقبول احمد رکن آباد، لاہور ہاٸی کورٹ کے وکیل بابا ارشد ناگرہ، چودھری شاہد ناگرہ، محمد اعظم الکڑا آف کوٹلی حاجی پور، سابق ممبر ضلع کونسل عبدالحمید ناگرہ، حکیم طاہر محمود راٸس مل کوٹلی باوا فقیر چند والے، معروف زمیندار رانا محمد داٶد، راٶ محمد یامین آف کالا چک، کرنل ر ظفر علی گل، سابق ایم پی اے منور علی گل، پی ٹی آٸی کے رہنما امجد علی باجوہ ایڈووکیٹ، حافظ خالد محمود، نور حسین چشتی، سابق کونسلر مختار احمدآف بن باجوہ، کاشتکار رفیق گل، سابق ناظم سٹی علامہ عقیل احمد ظہیر، بینک آفیسر شیخ فاروق اقبال، طارق جاوید ایڈووکیٹ، الرحیم گارڈن کے ڈاٸریکٹر چودھری طارق کاہلوں آف لویرے، سابق صدر انجمن تاجران غلہ منڈی حاجی بشیر احمد رتو، انسپکٹر اکرم گل، اصغر گل آف چرڑ، سابق چیرمین بلدیہ اعجاز احمد بھٹی آف مالوپتیال، سابق واٸس چیرمین محمد اصغر بٹ، راقم الحروف ابنِ آدم پسروری (پرویز باجوہ)، ادیب سجاد النبی شاہد، سابق ناظمین اسلامی جمعیت طلبا ملک الطاف الحق، اسد باجوہ (سابق جنرل مینجر ٹیلن سپورٹس)، اعزازالرسول، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملک عمران شہباز، مولانا رفیق احمد باجوہ آف تلونڈی، غلام احمد ڈوگر، چودھری مسعود باجوہ (نیاز احمد باجوہ ایڈووکیٹ کے والد )، محمد اسلم کھوکھر، ملک مسعود صادق، راشد محمود ایڈووکیٹ، پروفیسر اشرف علی چودھری، جماعت اسلامی کے رہنما خلیق احمد، سینٸر وکیل چودھری رشید احمد گجر ایڈووکیٹ، سابق قاٸد حزب اختلاف بلدیہ پسرور چودھری اعجاز نواز خان، کچہری روڈ کے معروف تاجر عرفان اللہ قمر، بھاٸیا ایوب، باٶ رزاق، ملک آصف ہمایوں اور دیگر بہت سے احباب شامل تھے۔ فوجی آمر ضیاالحق کے دور میں اوکٹراٸے یعنی چونگیات کا ٹھیکہ ملک ٹینٹ سروس پر بیٹھنے والے دوستوں کے ایک گروپ نے لے لیا اور اسی گروپ نے 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں سابق ممبر قومی اسمبلی صاحبزادہ محمد احمد اور 1987 کے بلدیاتی انتخاب میں سابق ممبر صوباٸی اسمبلی منور علی گل کو سپورٹ کیا۔ ملک ٹینٹ پر آنے والے تمام احباب کی قدر افزاٸی ہوتی تھی انہیں چاٸے اور کھانے کی پیش کش کی جاتی تھی اور روزنامہ جنگ اور سسپنس اور جاسوسی ڈاٸجسٹ پڑھنے کے لیے دستیاب ہوتے تھے ۔
راقم الحروف (ابن آدم پسروری) ان دنوں اسلامی جمعیت طلبا تحصیل پسرور کا ناظم تھا جبکہ منورعلی گل کا تعلق بھی جماعتِ اسلامی سے تھا۔ اس دور میں راقم الحروف کو سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کسٹمز زاید توقیر اور اختر زمان خان نے گاٸیڈ کیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ منور علی گل کو پروموٹ کیا جاٸے اور آٸیندہ وہ صوباٸی اسمبلی میں پہنچ کر ہماری نماٸیندگی کریں۔ راقم الحروف نے مختلف تقریبات، میچز، پریس کانفرنسز اور سیمینارز کا انعقاد شروع کردیا اخبارات وجراٸد میں منور علی گل کے بیانات شاٸع کروانے شروع کردیٸے۔ منور علی گل 1987 میں ممبر ضلع کونسل منتخب ہوٸے پھر انہوں نے 1988 میں آزاد حیثیت سے اور دوسری بار 1990 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور ہار گٸے پیپلز پارٹی کا ٹکٹ دلوانے کے لیے اس وقت کے پیپلز پارٹی اور جمعیت علماٸے پاکستان کے مشترکہ امیدوار صاحبزادہ محمد احمد کی حمایت اور رضا مندی کی ضرورت تھی، ان سے لیٹر بھی ہم نے بنوا کردیا۔ ملک ٹینٹ سروس 1995 تک پسرور کا ہاٸیڈ پارک بنا رہا اس دوران مرزا عبدالقیوم (فیصل الیکٹرک والے)، منور علی گل کو مسلم لیگ میں شامل کروانے کا کریڈٹ لیتے رہے مگر منور علی گل نے عام انتخابات میں سکندر حیات ملہی کے ساتھ گروپ بنا لیا جس کے بعد ملک ٹینٹ پر بیٹھنے والے لوگوں کی بدلتی ترجیحات اور احباب کی مصروفیات کی وجہ سے پرانا لاری اڈہ کے ”ہاٸیڈ پارک“ کی رونقیں ماند پڑنا شروع ہو گٸیں،
ہماری دعا ہے کہ ”آستانہ عالیہ“ ملک ٹینٹ سروس پسرور جُگ جُگ جیوے، شاد رہے، آباد رہے۔ آمین

کوئی تبصرے نہیں