اسلام آباد(بی بیسی اردو)اسلام آباد ہائیکورٹ کےقائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کی ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن...
اسلام آباد(بی بیسی اردو)اسلام آباد ہائیکورٹ کےقائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کی ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کا شوکاز نوٹس معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا ہے۔ لارجر بینچ میں جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابر ستار شامل ہیں جو اس مقدمے پر سماعت 18 اگست کو کریں گے۔
گذشتہ روز ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار وکیل انور منصور اور شاہ خاور ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
انور منصور ایڈووکیٹ نےکہا کہ حنیف عباسی کیس میں سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ موجود ہے، آئین کے مطابق وفاقی حکومت کسی بھی سیاسی جماعت کے خلاف ایکشن لے سکتی ہے۔
ان کے مطابق الیکشن کمیشن کے پاس سیاسی جماعتوں کی سکروٹنی کا اختیار ہے، جب بھی فنڈنگ یا اس قسم کے دیگر معاملات ہوتے ہیں تو سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیجنا ہوتا ہے۔
تحریک انصاف کے وکلا نے کہا کہ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کو تمام تر دستاویزات فراہم کردی ہیں۔ الیکشن کمیشن کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ ہم نے تبدیلی کی ہے۔
ان کے مطابق مختلف وجوہات کی بنا پر اکاؤنٹس ظاہر کرنا ضروری نہیں تھا۔ تحریک انصاف کے وکلا کے مطابق پیسہ یہاں سے صوبوں کے اکاؤنٹس میں گیا ہے اس سے ان کو ظاہر کرنا ضروری نہیں تھا۔
عدالت نے تحریک انصاف کی کی الیکشن کمیشن کا شوکاز نوٹس معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی اور رجسٹرار آفس کو لارجر بینچ کی تشکیل کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 18 اگست تک ملتوی کر دی۔

کوئی تبصرے نہیں