Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

پاکستان اور شام کی قربت کی شروعات ۔

  پاکستان اور شام کی قربت کی شروعات۔                 حماز گھمن۔                                                     ​شامی وزیرِ خارجہ اسعد ...


 

پاکستان اور شام کی قربت کی شروعات۔                

حماز گھمن۔                                                    

​شامی وزیرِ خارجہ اسعد حسن الشیبانی کا اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اترنا کوئی عام سی خبر نہیں ہے، بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ کے شطرنج پر ایک ایسی چال ہے جس نے دنیا بھر کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ایک طرف عالمِ اسلام کی تین بڑی طاقتوں کے درمیان 'مکہ دفاعی معاہدہ' طے پا چکا ہے، تو دوسری طرف اسرائیل کی بوکھلاہٹ کا یہ عالم ہے کہ اس نے شامی سرحد کے قریب فضائی اڈے پر بمباری کر کے اپنی ننگی جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ابھی محض گیارہ دن پہلے دمشق اور ماسکو کے درمیان ایک تاریخی معاہدا طے پایا تھا، جس کے بعد شام اس وقت عالمی سیاست کا مرکز و محور بنا ہوا ہے۔ ایسے نازک موڑ پر دمشق کا شاہین اگر اسلام آباد میں اترتا ہے، تو داستان میں نیا موڑ آنا طے ہے۔

​یہ آمد کوئی معمولی التفات نہیں، بلکہ پورے انیس برسوں کا جمود توڑنے کا نام ہے۔ آخری بار 2007 میں ولید المعلم ایک اجلاس کے لیے آئے تھے، اور اس سے بھی پیچھے جائیں تو 1974 میں حافظ الاسد نے لاہور کی تاریخی اسلامی سربراہی کانفرنس کو اپنے وجود سے رونق بخشی تھی۔ گویا نصف صدی کی اس برفباری کے بعد اگر سفارت کاری کی دھوپ نکلی ہے، تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس سرد مہری کے پیچھے کون سے را ز دفن تھے؟ اور سب سے بڑا 'بلین ڈالر سوال' یہ کہ کیا شام بھی اس مکہ دفاعی معاہدے کی ڈوری میں بن دھاگے کے پرویا جا رہا ہے؟

​سیاست کے گرم و سرد چشیدوں کی نظر میں شام فی الحال اس کا باقاعدہ حصہ نہیں بنے گا۔ اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ اتحاد فی الوقت "کوانٹٹی" کے بجائے "کوالٹی" پر توجہ دے رہا ہے؛ یعنی پہلے مصر اور پھر قطر جیسی تگڑی اور معاشی طور پر مستحکم ریاستوں کو ساتھ ملانا ترجیح ہے تاکہ اندرونی کھکھیڑ اور تنازعات سے بچا جا سکے۔ دوسری وجہ یہ کہ شام اس وقت گہرے زخموں سے نڈھال ہے، وہ لبنان اور یمن سے بھی پیچھے کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ اگر شام اس معاہدے میں باضابطہ شامل ہوتا ہے تو اس کا مطلب سیدھا اسرائیل سے جنگ کا بگل بجانا ہوگا، جس کا خطرہ فی الوقت کوئی نہیں مول لینا چاہتا۔

​لیکن داستان کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ترکی نے شام کے گرد ایسا مضبوط حفاظتی حصار کھینچ دیا ہے کہ شام اب معاہدے کا حصہ نہ ہو کر بھی حصہ ہے۔ نو اگست کو روس اور شام کے درمیان طے پانے والا معاہدہ انقرہ کا وہ شاندار داؤ تھا جس نے اسرائیل اور مغرب کی نیندیں اڑا دیں۔ روس اب طرطوس کی بندرگاہ اور حمیمیم کے ایئربیس سے نہ صرف بحیرہ روم اور یورپ پر نظر رکھے گا بلکہ افریقہ تک اپنی دھاک بٹھائے گا۔ حمیمیم ایئربیس جو اسرائیل کی عین بغل میں واقع ہے، وہاں سے ہر نقل وحرکت پر ماسکو کی کڑی نگاہ ہوگی—اور روس کی آنکھ کا مطلب ترکی اور شام کی آنکھ ہے۔

​اب ذرا تصویر کا سب سے خوبصورت پہلو دیکھیے۔ ترکی اگر سفارت کاری کا استاد ہے تو پاکستان بھی اس میدان کا شہسوار ہے۔ پاکستان شام کو جدید فوجی تربیت، جدید ترین دفاعی ہتھیار اور مضبوط سفارتی سہارا فراہم کر سکتا ہے۔ اسرائیل جو ہمیشہ بھارت کے کندھے پر بندوق رکھ کر پاکستان کو گھیرنے کی کوشش کرتا تھا، اب خود پاکستان، ترکی اور مصر کے تیار کردہ اس عالمی جال میں دو اطراف سے محصور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ الشیبانی کا یہ دورہ تو ابھی بارش کا پہلا قطرہ ہے، آگے آگے دیکھیے کس طرح تعلقات کی یہ برکھا مشرقِ وسطیٰ کے صحرا کو سرسبز کرتی ہے!

​#PakistanSyriaRelations #AsaadHassanAlShabbani #MiddleEastPolitics #MeccaDefensePact #PakistanForeignPolicy #TurkeyRussiaSyria #GlobalPolitics #JavedChaudhryStyle #CPEC #WorldDiplomacy #حماز_گھمن #پاکستان_شام_تعلقات


کوئی تبصرے نہیں