نیل کا جادو، تل ابیب کا خوف اور 'مکہ معاہدہ'! حماز گھمن آپ تاریخ ...
نیل کا جادو، تل ابیب کا خوف اور 'مکہ معاہدہ'!
حماز گھمن
آپ تاریخ کے پنے الٹ کر دیکھیں یا آج کے مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر نگاہ دوڑائیں، آپ کو ایک بات روزِ روشن کی طرح عیاں نظر آئے گی: "مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں مصر وہ محور ہے جس کے بغیر کسی طاقت کا شاہین پرواز نہیں کر سکتا۔"
یہ وہی مصر ہے جس کے پاس بحیرہء روم کے ساحل بھی ہیں اور جس کے صحراؤں نے 1973ء کی جنگِ یومِ کپور میں صہیونی ریاست تل ابیب کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی تھیں۔ یہ وہی قاہرہ ہے جس کی گلیوں میں انور سادات کا خون صرف اس لیے بہا دیا گیا تھا کہ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ دستِ تعاون بڑھایا تھا۔ مگر وقت کا پہیہ گھوما، سادات چلے گئے لیکن قاہرہ نے اپنی خودداری اور آزاد سفارت کاری کا علم بلندرکھا۔ اس نے اسرائیل سے ہاتھ تو ملایا مگر کبھی خود کو اس کی 'بی ٹیم' بننے نہ دیا—اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی حماس تل ابیب سے زیادہ قاہرہ کی بات پر کان دھرتی ہے۔
مگر کہانی میں اصل موڑ تب آیا جب متحدہ عرب امارات نے خطے کے کھیل میں باقاعدہ انٹری ماری۔ ابوظہبی اور تل ابیب قریب آئے، تو مصر نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا شروع کر دیے۔ بات یہاں تک پہنچی کہ جب ایرانی حملوں کے خوف سے اسرائیل نے یو اے ای میں اپنے دفاعی ماہرین بھیجے، تو قاہرہ نے بھی اپنے جنگی طیاروں کا دائرہ یو اے ای کے فضائی اڈوں تک پھیلا دیا۔
دوسری طرف ترکی کے اپنے مسائل ہیں۔ انقرہ ایک طرف اپنے تاریخی حریف یونان کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہا ہے تو دوسری طرف قبرص کا قضیہ اس کے گلے کا طوق بنا ہوا ہے۔ دو ہزار دس کے بعد جب بحیرہء روم کے گہرے پانیوں میں گیس کا خزانہ دریافت ہوا، تو اسرائیل بھی اس کھیل میں کود پڑا۔ اسرائیل گیس نکالتا ہے، اور مصر—جس کے پاس ایل این جی کا بہترین انفراسٹرکچر ہے—اسے آگے فروخت کرتا ہے۔ یوں مفادات کی ایک ایسی زنجیر بنی جس کے ایک طرف ترکی اکیلا کھڑا ہے اور دوسری طرف یونان، قبرص، اسرائیل اور مصر کا مضبوط اتحاد ہے۔
آپ قاہرہ کی حالتِ زار کا اندازہ لگائیے!
یہ وہ محبوبہ بن چکا ہے جو رقیبوں کے درمیان گھری ہوئی ہے۔
سعودی عرب اس لیے کڑھ رہا ہے کہ مصر نے ابوظہبی کے گلے میں بانہیں ڈال رکھی ہیں۔
ترکی اس لیے غم زدہ ہے کہ نیل کی حسینہ یونان اور اسرائیل سے عشق لڑا رہی ہے۔
ترکی اور سعودی عرب کا ماسٹر پلان یہ تھا کہ مصر کو 'مکہ معاہدے' میں شامل کر کے بیک وقت ابوظہبی اور تل ابیب کو زبردست نکیل ڈالی جائے۔ پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کی ملاقاتوں کے طویل سلسلے چلے، دباؤ بھی بڑھایا گیا اور لالچ بھی دی گئی... مگر نتیجہ؟
مصری حسینہ نے ناز و ادا سے انکار کر دیا!
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مصر نے مکہ معاہدے پر دلاسا دے کر ہاتھ کیوں چھڑا لیا؟
اس کی دو بنیادی اور انتہائی ٹھوس وجوہات ہیں:
معاشی و سیاسی مفادات: مصر کو ایک طرف مشرقی بحیرہء روم کے گیس کھاتے میں اپنا اربوں ڈالر کا معاشی مفاد نظر آ رہا ہے، تو دوسری طرف یو اے ای کے راستے مشرقِ وسطیٰ کی بڑی طاقت بننے کا شارٹ کٹ مل رہا ہے۔ مکہ معاہدے میں اسے وہ ’چمک‘ نظر نہیں آئی جو اسے موجودہ سیٹ اپ میں مل رہی ہے۔
جغرافیائی حقیقت اور تل ابیب کا خوف: معاہدے میں شامل ہونے کا سیدھا مطلب تھا: اسرائیل کے ساتھ براہِ راست ٹکراؤ! مکہ معاہدے کے باقی تمام ممالک (پاکستان، ترکی، سعودی عرب) اسرائیل سے جغرافیائی طور پر خاصے فاصلے پر ہیں، لیکن مصر؟ مصر بالکل اسرائیل کی ناک کے نیچے، اس کی سرحد پر واقع ہے۔ کسی بھی ممکنہ جنگ یا تصادم کی صورت میں پہلی گولی اور پہلا بم قاہرہ پر گرے گا۔
مصر کے پالیسی سازوں نے ٹھنڈے دل سے سوچا: "جب تل ابیب سے فی الوقت کوئی خطرہ ہی نہیں ہے، جب گیس کا کاروبار بہترین چل رہا ہے، تو پھر خواہ مخواہ ایک نئے اتحاد میں کود کر اپنے گھر میں آگ کیوں لگائی جائے؟"
چنانچہ انقرہ اور ریاض کا تمام تر زور اکارت گیا اور قاہرہ نے بڑی صفائی سے خود کو اس کھکھیڑ سے الگ کر لیا۔
سچ یہ ہے: سیاست میں نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے نہ دشمن، صرف اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ اور مصر نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کے لیے جذباتی نعروں سے زیادہ اپنے معاشی و دفاعی مفادات عزیز ہیں!

کوئی تبصرے نہیں