برکس اجلاس 2026: پاکستان اور بھارت کہاں کھڑے ہیں؟ تحریر: حماز گھمن بھارت میں برکس کا سربراہی اجلاس اختت...
برکس اجلاس 2026: پاکستان اور بھارت کہاں کھڑے ہیں؟
تحریر: حماز گھمن
بھارت میں برکس کا سربراہی اجلاس اختتام پذیر ہوا اور اعلامیہ جاری کیا گیا تو ممکن ہے اسلام آباد کے اقتدار کے ایوانوں میں بھی کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی ہو۔ شاید میز پر رکھے کاغذات دوبارہ دیکھے گئے ہوں، نقشے پر انگلیاں پھیری گئی ہوں اور یہ سوال بھی اٹھا ہو کہ جو بات کل تک ممکن نہیں تھی، وہ آج کیسے ممکن ہوگئی؟
برکس محض چند ممالک کا اجلاس نہیں، بلکہ بدلتی ہوئی عالمی معاشی ترتیب کی ایک علامت ہے۔ 2006 میں جب برازیل، روس، بھارت اور چین اس پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے تو اسے BRIC کہا گیا۔ بعد ازاں جنوبی افریقہ کی شمولیت سے اس کے نام میں ’’S‘‘ کا اضافہ ہوا اور BRICS وجود میں آیا۔ وقت کے ساتھ ایران، متحدہ عرب امارات، مصر، انڈونیشیا اور ایتھوپیا بھی اس صف میں شامل ہوگئے۔ سعودی عرب کو بھی دعوت دی گئی، تاہم ریاض نے اب تک اپنی پوزیشن واضح طور پر بیان نہیں کی۔
پاکستان بھی 2023 سے اس فورم کا رکن بننے کی کوشش کر رہا ہے، مگر بھارت کا مؤقف رہا ہے کہ کسی نئے رکن کی شمولیت اتفاقِ رائے سے ہی ممکن ہوگی۔
یہاں اصل معاملہ صرف یہ نہیں کہ کتنے ممالک ایک میز کے گرد بیٹھے ہیں۔ اصل اہمیت اس میز کی طاقت کی ہے۔
برکس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ عالمی معاشی نظام صرف مغربی طاقتوں کے گرد نہ گھومے، بلکہ دنیا کے دیگر خطوں کو بھی فیصلہ سازی اور عالمی تجارت میں زیادہ مؤثر کردار حاصل ہو۔ اسی سوچ کے تحت رکن ممالک ڈالر پر مکمل انحصار کم کرنے اور باہمی تجارت میں متبادل کرنسیوں کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لیتے رہے ہیں۔
یہ تصور ابھی پوری طرح حقیقت نہیں بن سکا، تاہم چین نے بعض ممالک، خصوصاً برازیل، کے ساتھ تجارت میں اپنی کرنسی یوآن کے استعمال کو فروغ دینے کی کوشش ضرور کی ہے۔
مگر عالمی سیاست میں معیشت کبھی تنہا نہیں چلتی۔
جہاں تجارت کے راستے کھلتے ہیں، وہاں سیاست بھی اپنا اثر دکھاتی ہے۔
اسی لیے برکس کے حالیہ اعلامیے میں پہلگام حملے کی مذمت، غزہ کے باشندوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت اور لبنان میں جنگ بندی کی حمایت جیسے معاملات بھی نمایاں رہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں اسلام آباد کے لیے اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
ماضی میں بھارت پاکستان کے خلاف کسی واضح شق کو عالمی اعلامیوں کا حصہ بنانے میں زیادہ کامیاب نہیں ہوسکا۔ اس کی ایک بڑی وجہ چین کا رویہ تھا۔ تاہم اس مرتبہ پہلگام واقعے کی مذمت اعلامیے میں شامل ہوگئی۔
یہ تبدیلی معمولی نہیں۔
جس واقعے کے بعد پاک بھارت تعلقات جنگ کی دہلیز تک پہنچ گئے، چار روز تک دونوں جانب سے توپیں گرجتی رہیں، میزائلوں نے آسمان کا سینہ چھیرا اور دنیا نے دونوں ایٹمی طاقتوں کو ایک خطرناک موڑ پر کھڑا دیکھا، آج اسی واقعے کا ذکر ایک بڑے عالمی فورم کے اعلامیے میں موجود ہے۔
تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے:
بھارت آخر یہ دروازہ کھولنے میں کیسے کامیاب ہوگیا؟
اس سوال کا جواب شاید صرف سفارتی میزوں پر نہیں، بلکہ دونوں ممالک کی ترجیحات میں پوشیدہ ہے۔
پاکستان اور بھارت ایک ہی خطے کے دو بڑے ممالک ضرور ہیں، مگر دنیا کو دیکھنے کے ان کے زاویے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان نے جن بڑی طاقتوں کے ساتھ گہرے تعلقات استوار کیے، ان میں زیادہ تر روابط کے پس منظر میں دفاع، سلامتی، جنگی حکمتِ عملی اور عسکری تعاون نمایاں رہے۔ اس کے برعکس بھارت نے دفاع کو نظرانداز نہیں کیا، بلکہ معاشی طاقت کو بھی اپنی قومی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بنایا۔
وہ روس سے جدید دفاعی نظام خریدتا ہے، مغرب کے ساتھ معاشی اور ٹیکنالوجی کے روابط بڑھاتا ہے، عالمی سرمایہ کاری کو دعوت دیتا ہے اور ساتھ ہی اپنی معیشت کو عالمی طاقت بننے کی دوڑ میں آگے لے جاتا ہے۔
یہی وہ فرق ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
بھارت نے شاید یہ سبق جلد سیکھ لیا کہ صرف مضبوط فوج کسی ملک کو طاقتور نہیں بناتی؛ مضبوط معیشت فوج کو بھی طاقت فراہم کرتی ہے۔
پاکستان میں صورتِ حال کچھ مختلف دکھائی دیتی ہے۔
یہاں دفاع ہمیشہ قومی ترجیحات کی فہرست میں سرفہرست رہا ہے۔ معیشت کی ذمہ داری سیاست دانوں کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے، جبکہ دفاعی معاملات کی ذمہ داری ان طاقتور مراکز پر عائد ہوتی ہے جو برسوں سے قومی سلامتی کے محافظ ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ خارجہ پالیسی اور معیشت ایک دوسرے سے جدا نہیں۔
اگر دنیا کے بڑے معاشی مراکز کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات قائم نہیں ہوں گے، سرمایہ کاری نہیں آئے گی، برآمدات میں اضافہ نہیں ہوگا اور عالمی معاشی اداروں میں اپنا وزن پیدا نہیں کیا جائے گا تو محض دفاعی طاقت ملک کو دیرپا عالمی اثر و رسوخ نہیں دے سکتی۔
توپ سرحد کی حفاظت کرسکتی ہے، مگر معیشت ملک کا مستقبل تشکیل دیتی ہے۔
ایک ملک کے پاس جدید ترین طیارے، میزائل اور ٹینک ہوسکتے ہیں، مگر اگر اس کی معیشت کمزور ہو، روزگار کے مواقع محدود ہوں اور سرمایہ کاری کے راستے مسدود ہوں تو یہ طاقت ایک خاص حد کے بعد بوجھ بننے لگتی ہے۔
چین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔
اسلام آباد کے رن وے پر اگر جدید جنگی طیارے اتریں تو منظر یقیناً متاثر کن ہوتا ہے۔ استقبال ہوتا ہے، کیمرے چمکتے ہیں، خبریں بنتی ہیں اور قومی فخر بیدار ہوتا ہے۔
لیکن اسی وقت اگر بیجنگ میں کوئی اجلاس جاری ہو، جہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، صنعتی منصوبوں، برآمدی منڈیوں، ٹیکنالوجی اور روزگار کے امکانات پر گفتگو ہورہی ہو، تو اصل طاقت شاید وہاں موجود چند خاموش افراد کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔
کیونکہ آج کی دنیا میں جنگی طیارے طاقت کی علامت ضرور ہیں، مگر معاشی معاہدے طاقت کا سرچشمہ بنتے جارہے ہیں۔
بھارت نے اسی حقیقت کو اپنی حکمتِ عملی میں شامل کیا ہے۔
وہ دفاع بھی چاہتا ہے اور معاشی طاقت بھی۔
وہ روس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور مغرب کے ساتھ بھی تعلقات بڑھاتا ہے۔
وہ عالمی سیاست میں اپنی جگہ بناتا ہے اور ساتھ ہی عالمی معیشت میں اپنا وزن بڑھاتا ہے۔
پاکستان کو بھی اب شاید خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ ہم دنیا سے کیا چاہتے ہیں؟
صرف ہتھیار؟
صرف دفاعی ضمانتیں؟
صرف سیاسی حمایت؟
یا پھر ہم دنیا کو اپنی منڈی، صنعت، برآمدات، افرادی قوت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیش کرنا چاہتے ہیں؟
اگر ہماری خارجہ پالیسی کا رخ صرف سلامتی کے گرد گھومتا رہا تو دنیا ہمیں ایک دفاعی ضرورت کے طور پر دیکھے گی۔
لیکن اگر ہماری خارجہ پالیسی میں معیشت، تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی مرکزی کردار اختیار کرلیں تو دنیا ہمیں ایک معاشی شراکت دار کے طور پر دیکھنا شروع کرسکتی ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان اور بھارت کے راستے الگ ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
بھارت شاید جنگ کے میدان میں پاکستان کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ اسے معاشی میدان میں پیچھے چھوڑنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
ہم کب تک دنیا کے دروازے پر صرف دفاعی ضرورتوں کی فہرست لے کر کھڑے رہیں گے؟
ہم کب سرمایہ کاروں کو دعوت دیں گے؟
کب ہماری سفارت کاری کا مرکز تجارتی معاہدے ہوں گے؟
کب ہماری یونیورسٹیاں، صنعتیں اور برآمد کنندگان خارجہ پالیسی کا حصہ بنیں گے؟
اور کب ہم یہ سمجھیں گے کہ آج کی دنیا میں میزائل کی رفتار سے زیادہ اہم معیشت کی رفتار ہے؟
برکس کا حالیہ اجلاس شاید پاکستان کے لیے کسی شکست کا اعلان نہ ہو، مگر یہ ضرور ایک آئینہ ہے۔
اس آئینے میں بھارت اپنی معاشی سمت کے ساتھ کھڑا دکھائی دیتا ہے، جبکہ پاکستان کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ آئینے میں اپنی کون سی تصویر دیکھنا چاہتا ہے۔
ایک ایسی ریاست جو صرف دفاع کے حصار میں محفوظ رہنے کی کوشش کرے…
یا ایک ایسی ریاست جو دفاع میں مضبوط، معیشت میں خودمختار اور سفارت کاری میں مؤثر ہو۔
کیونکہ آخرکار تاریخ ان ممالک کو یاد نہیں رکھتی جو صرف ہتھیار جمع کرتے رہے۔
تاریخ ان قوموں کو یاد رکھتی ہے جو اپنی طاقت کو خوشحالی میں تبدیل کرنا جانتی تھیں۔

کوئی تبصرے نہیں