مکہ کا معجزہ اور تین طاقتیں! حماز گھمن آپ تاریخ کے صفحات پلٹ کر دیکھ لیں۔ دنیا میں جب بھی کوئی بڑا انقلاب آیا ہے، اس کے پیچھے کسی ایک دست...
مکہ کا معجزہ اور تین طاقتیں!
حماز گھمن
آپ تاریخ کے صفحات پلٹ کر دیکھ لیں۔ دنیا میں جب بھی کوئی بڑا انقلاب آیا ہے، اس کے پیچھے کسی ایک دستخط، کسی ایک فیصلے یا کسی ایک دن کا ہاتھ ضرور رہا ہے۔ تاریخ ایسے دنوں کو کبھی فراموش نہیں کرتی۔ 7 اگست کا دن بھی بالکل ایسا ہی ایک دن بن کر ابھرا ہے، جس کا ڈنکا عالمِ اسلام سے لے کر مغرب کے ایوانوں تک بج رہا ہے۔
پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے بالآخر مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمیں پر ایک ایسے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس کا انتظار صدیوں سے کیا جا رہا تھا۔ وہ شاہ کار جس کے سامنے آتے ہی دنیا کے بڑے بڑے کرتا دھرتاؤں کے حساب کتاب گڑبڑا گئے۔ اگرچہ اس معاہدے کی تفصیلات فی الحال سکیورٹی کے دبیز پردوں میں چھپی ہوئی ہیں، لیکن اس کا بنیادی قانون اور سرنامہ بالکل صاف ہے: "ایک پر حملہ، تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا!"
آپ ذرا رک کر OIC (اسلامی تعاون تنظیم) کی کارکردگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔ اقوامِ متحدہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی تنظیم، مگر عمل کے نام پر بالکل ناتواں! آپ 1958 کا دور یاد کریں جب جمال عبدالناصر کے جادوئی سحر نے مصر اور شام کو ملا کر "متحدہ عرب جمہوریہ" کی بنیاد رکھی تھی، مگر وہ نوزائیدہ رشتہ بمشکل تین سال ہی چل سکا اور دم توڑ گیا۔ لیکن آج مکہ میں جو تاریخ لکھی گئی ہے، خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد اسے عالمِ اسلام کا سب سے بڑا دفاعی معرکہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ کوئی راتوں رات اگنے والا پودا نہیں ہے۔ اس کے پیچھے پورے ایک سال کی سخت محنت، خفیہ ملاقاتیں اور سفارتی باریک بینیاں شامل تھیں۔ تینوں ممالک کی طاقت کا اپنا اپنا ایک انداز اور الگ زاویہ ہے۔
سعودی عرب: مال و دولت کی فراوانی، حرمین شریفین کا تقدس، عالمِ اسلام کی قیادت کا سہرہ اور عظیم سیاسی قد کاٹھ۔
ترکی: نیٹو کی دوسری بڑی فعال فوج، دنیا کی ٹاپ 100 کمپنیوں میں شامل شاندار دفاعی صنعت، اور 'بیرقدار' اور 'قان' (KAAN) جیسے ففتھ جنریشن کے ڈرونز اور طیارے بنانے والا معتبر نام۔ وہی ڈرونز جنہوں نے آذربائیجان کو فتح دلائی اور یوکرین کو سہارا دیا۔
پاکستان: دنیا کی بہترین اور جری فوج، شاہین اور غوری جیسے میزائلوں کا خالق، جدید انٹیلی جنس کا شاہکار، اور چین و امریکہ کے درمیان توازن برقرار رکھنے والی بے مثال سیاسی بصیرت!
تینوں ممالک جیو پولیٹکس کے ایسے حساس موڑ پر بیٹھے ہیں جہاں سے دنیا کی سیاست کا رخ بدلتا ہے۔ ترکی یورپ اور ایشیا کا سنگم ہے، سعودی عرب کے پڑوس میں اردن اور اسرائیل ہیں، اور پاکستان کے ساتھ چین کی سرحدیں ملتی ہیں اور سامنے نیلا سمندر ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ یہ برف پگھلی کیسے؟ ترکی اور سعودی عرب کے درمیان تو ایک صدی پرانا درد تھا۔ جب عثمانی سلطنت ٹوٹی تو ترکی کا دل چھن سے ٹوٹ گیا۔ عربوں کی بے وفائی کا زخم ایسا تھا کہ ترکی نے درد بھلانے کے لیے "سیکولرازم" کا جام پی لیا اور سعودی عرب مذہبی سخت گیری کی طرف چلا گیا۔ 2010 کی دہائی میں جب طیب اردگان کا سورج طلوع ہوا تو انہوں نے الاخوان المسلمون اور 'عرب بہار' کی حمایت کی، جبکہ سعودیہ اور مصر نے اخوان پر پابندی لگا دی۔ 2017 میں قطر کا بائیکاٹ ہوا تو ترکی ڈٹ کر قطر کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور اپنی افواج وہاں اتار دیں۔ 2018 میں استنبول میں جمال خاشقجی کا لرزہ خیز قتل ہوا، جس کے بعد دونوں ملکوں کی تجارت 90 فیصد تک گر گئی۔ ترکی حیران تھا کہ "سانوں نہر والے پل تے بلا کے" سعودی عرب خود روشنائی اور سیکولرازم کی پتلی گلی سے نکل رہا ہے!
لیکن کہتے ہیں نہ کہ وقت سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے۔
2020 میں ترکی کے شہر ازمیر میں زلزلہ آیا تو شاہ سلمان نے امداد کے ہاتھ بڑھائے۔ 2022 میں معاشی مشکلات کے شکار اردگان ریاض پہنچے، اور پھر 2023 میں ترکی کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈرون معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ طے پا گیا۔ زمانہ قدیم کی جمی ہوئی برف پگھل گئی!
آج کا منظر نامہ یہ ہے کہ تینوں ممالک ایک جان اور تین قالب بن چکے ہیں۔ پاک بھارت جھڑپوں کے دوران کراچی کی بندرگاہ پر ترک بحری جہاز کا لنگر انداز ہونا ہو، یا یمن میں ترک ڈرونز کا استعمال—سب ایک دوسرے کا دستِ راست ہیں۔ کل جب حوثیوں نے نجران پر حملہ کیا تو اندر کی خبر یہ نکل کر آئی کہ وہاں پاکستانی فوج کے دستے پہلے سے تعینات تھے۔
اس معاہدے نے تل ابیب (اسرائیل) کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ اسرائیل جو ان تینوں کو الگ الگ اپنا دشمن سمجھتا تھا، آج انہیں ایک ہی صف میں کھڑا دیکھ کر ششدر رہ گیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے سعودی عرب کو سول نیوکلیئر ڈیل کے بدلے "ابراہیم معاہدے" میں شمولیت کی شرط دی تھی، مگر ریاض نے اس شرط کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہوئے بتا دیا ہے کہ اب ہمیں اپنی حفاظت کے لیے کسی غیر کے آستانے پر جھکنے کی ضرورت نہیں رہی!
زمانوں بعد سہی، لیکن مسلم دنیا کے اپنے بازوؤں میں طاقت لوٹنا شروع ہوئی ہے۔ اب نہ ہمیں تمہارے اسلحے کی ضرورت ہے، نہ تمہارے معاہدوں کی اور نہ ہی تمہاری ڈکٹیٹرشپ کی!
@highlight ARY News Ibneadam Pasruri Imran Nawaz Khokhar BBC URDU CNN Urdu News Turkiye Urdu Bangla Urdu - بنگلہ اردو Millat Times Urdu TPD Urdu Seemi Zaidi Dunya News Geo News Urdu Muhammad Afzaal Aatir

کوئی تبصرے نہیں