حوثی وار، مکہ معاہدہ اور ایک انٹرویو تحریر: حماز گھمن کہتے ہیں جنگ صرف میدان ...
حوثی وار، مکہ معاہدہ اور ایک انٹرویو
تحریر: حماز گھمن
کہتے ہیں جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جاتی، کچھ جنگیں نقشوں پر لڑی جاتی ہیں، کچھ میزوں پر، کچھ سفارتی مسکراہٹوں کے پیچھے اور کچھ خاموش فون کالوں میں۔
آج سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی بھی اسی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں توپ کی آواز سے زیادہ اہم وہ خاموش فیصلے ہوتے ہیں جو بند کمروں میں کیے جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ مارا ہوا سانپ کب تک زہر اگلتا رہے گا؟ اور زخمی جسم کب تک مرہم کا منتظر رہے گا؟ طبیبِ استنبول اور طبیبِ اسلام آباد کب تک نبض ٹٹولتے رہیں گے؟
یہ سوال اس وقت مزید اہم ہوگیا جب مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا العربیہ کو دیا گیا انٹرویو سامنے آیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، اس کا کوئی جارحانہ یا علاقائی ایجنڈا نہیں اور اس کا بنیادی مقصد اجتماعی بازداریت ہے۔
بظاہر یہ چند سادہ جملے ہیں، مگر بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات چند جملے پورا نقشہ اپنے اندر چھپا لیتے ہیں۔
ذرا ماضی کی طرف چلتے ہیں۔
17 ستمبر 2025 کو پاکستان اور سعودی عرب نے اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے مطابق ایک ملک پر جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
یہاں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے: اس معاہدے کی ضرورت کس کو زیادہ تھی؟
سعودی عرب کے پاس متبادل کم نہیں تھے۔ مغرب اس کے دروازے پر موجود تھا، امریکا کے ساتھ دہائیوں پر محیط تعلقات تھے، روس سے تعلقات بڑھانے کی گنجائش بھی موجود تھی اور خطے میں اپنی معاشی طاقت کے باعث ریاض کسی ایک دروازے کا محتاج بھی نہیں۔
پاکستان کا معاملہ مختلف تھا۔
کبھی ایسا وقت تھا جب عرب دنیا پاکستان کو ضرورت کے وقت یاد تو کرتی تھی، مگر برابری کی سطح پر کوئی طویل المدتی دفاعی عہد کرنا آسان نہیں تھا۔ پھر اچانک منظر بدلا۔ ریاض اور اسلام آباد ایک ایسے دفاعی بندھن میں بندھ گئے جس نے تقریباً آٹھ دہائیوں پر پھیلے تعلقات کو ایک نئے اسٹریٹجک فریم میں ڈال دیا۔ سعودی سرکاری اعلامیے نے بھی اس رشتے کو تاریخی شراکت، مشترکہ مفادات اور قریبی دفاعی تعاون سے جوڑا۔
یہ معمولی تبدیلی نہیں تھی۔
یہ ایسے تھا جیسے برسوں سے دروازے کے باہر کھڑا ایک شخص اچانک گھر کے اندرونی کمرے کا شریک بنا دیا جائے۔
اور پھر ترکیہ۔
مکہ کا یہ بندھن صرف دو ملکوں کی کہانی نہیں؛ اس میں انقرہ بھی شریک ہے۔ آج پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ ایک ایسے دفاعی فریم میں کھڑے ہیں جسے پاکستانی فوجی ترجمان نے اجتماعی دفاع اور بازداریت کا انتظام قرار دیا ہے، نہ کہ کسی تیسرے ملک کے خلاف اتحاد۔
اب سوال یہ نہیں کہ معاہدے میں کیا لکھا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ جو کچھ لکھا گیا ہے، اس کے پیچھے کیا کچھ پڑھا جاسکتا ہے؟
یہاں احتیاط ضروری ہے، کیونکہ ریاستیں شاعری نہیں کرتیں۔ وہ الفاظ ناپ تول کر استعمال کرتی ہیں۔ ایک لفظ کبھی جنگ روک دیتا ہے اور ایک لفظ کبھی جنگ شروع کرا دیتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر سے جب پوچھا گیا کہ اگر معاہدے کے کسی ایک فریق پر حملہ ہوجائے تو پاکستان کا ردعمل کیا ہوگا، تو انہوں نے بنیادی طور پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایسے معاہدوں کے نفاذ کے طریقۂ کار کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے نہیں رکھی جاتیں۔
یہ جملہ بظاہر مختصر ہے، لیکن سفارت کاری کی دنیا میں اختصار کبھی کبھی سب سے طویل جواب ہوتا ہے۔
اگر سب کچھ بتانا مقصود ہوتا تو شاید بہت کچھ بتایا جاسکتا تھا۔
مگر ریاستیں اپنے تمام پتے اخبار کے صفحے پر نہیں رکھتیں۔
شطرنج کا کھلاڑی بھی مخالف کو یہ نہیں بتاتا کہ اگلی چال کیا ہوگی۔
اور یہی وجہ ہے کہ مکہ معاہدے کو صرف ایک کاغذ سمجھنا شاید تصویر کا صرف ایک رخ دیکھنا ہے۔
دوسرا رخ یمن ہے۔
حوثیوں کے پاس جغرافیہ ہے، میزائل ہیں، ڈرون ہیں، بحیرۂ احمر کے قریب موجودگی ہے اور باب المندب جیسی عالمی اہمیت کی گزرگاہ ان کے اثر و رسوخ کے دائرے میں آتی ہے۔ حالیہ لڑائی میں حوثیوں نے یمن کے مغربی ساحل پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے، جس نے سعودی عرب اور عالمی جہازرانی کے لیے تشویش بڑھائی ہے۔
اور اب معاملہ مکہ تک پہنچ گیا ہے۔
16 ستمبر 2026 کو سعودی عرب نے کہا کہ اس نے مکہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون کو روک کر تباہ کیا، جبکہ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی۔ سعودی حکام نے مکہ کی سلامتی کو سرخ لکیر قرار دیا ہے۔
یہاں سے کہانی کا رنگ بدل جاتا ہے۔
کیونکہ جب جنگ کسی فوجی اڈے، بندرگاہ یا تیل کے ذخیرے تک محدود ہو تو سفارت کاری کے کئی راستے کھلے رہتے ہیں۔
مگر جب مقدس مقامات کی سلامتی کا سوال اٹھے تو ریاستی فیصلوں کا وزن بدل جاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مکہ معاہدے کی اہمیت کو صرف ایک سفارتی دستاویز کے طور پر نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیکیورٹی فریم ورک کے طور پر دیکھنے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔
پاکستان کے لیے معاملہ مزید حساس ہے۔
اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری رکھتا ہے، دوسری طرف ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز کی پالیسی بھی رکھتا ہے۔ خود پاکستانی فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی مختلف ممالک اور عالمی اتحادوں کے ساتھ بیک وقت تعلقات اور مشغولیت پر مبنی ہے۔
یعنی پاکستان کے سامنے راستہ سیدھا نہیں۔
یہ ایسی سڑک ہے جس کے ایک طرف سعودی عرب ہے، دوسری طرف ایران، سامنے امریکا ہے، پیچھے چین اور درمیان میں پاکستان۔
ایسے راستوں پر گاڑی رفتار سے نہیں، توازن سے چلائی جاتی ہے۔
اسی لیے اسلام آباد کا ہر قدم ناپا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان نے حالیہ دنوں میں حوثی حملوں کی مذمت ضرور کی ہے، مگر 10 ستمبر 2026 کو دفتر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ مکہ معاہدے کے تحت کسی فوری فوجی کارروائی پر اس وقت کوئی بات نہیں ہوئی۔
لہٰذا اس مرحلے پر یہ کہنا کہ پاکستان فوراً میدانِ جنگ میں اترنے والا ہے، موجودہ سرکاری بیانات سے ثابت نہیں ہوتا۔
لیکن یہ کہنا بھی شاید درست نہیں کہ پاکستان کا کردار ختم ہوگیا ہے۔
کیونکہ جنگ میں کچھ کردار وردی پہن کر ادا کیے جاتے ہیں اور کچھ میز کے دوسری جانب بیٹھ کر۔
ترکیہ کا معاملہ بھی یہی ہے۔
انقرہ خطے میں اپنے مفادات، شام میں اپنی پوزیشن، عرب دنیا سے تعلقات اور سعودی عرب کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط کو سامنے رکھ کر فیصلے کرے گا۔ مکہ کا دفاعی فریم ورک ان تمام تعلقات کے بیچ ایک نئی لکیر کھینچتا ہے، مگر اس لکیر کی پوری لمبائی ابھی کسی کے سامنے نہیں۔
اور شاید یہی سیاست ہے۔
دنیا کو وہی دکھایا جاتا ہے جو دکھانا ضروری ہو۔
باقی فائلیں بند الماریوں میں رہتی ہیں۔
اس لیے جنرل احمد شریف چودھری کا یہ کہنا کہ معاہدوں کے تمام طریقۂ کار دنیا کو نہیں بتائے جاتے، ایک ایسا جملہ ہے جسے محض ایک میڈیا بائٹ سمجھ کر گزر جانا شاید درست نہ ہو۔ البتہ اس جملے سے کوئی مخصوص خفیہ فوجی منصوبہ اخذ کرنا بھی قیاس ہوگا۔ جو چیز معلوم ہے وہ یہ ہے کہ معاہدے کو پاکستان نے دفاعی اور اجتماعی بازداریت کا انتظام قرار دیا ہے؛ اس کے عملی نفاذ کی مکمل تفصیلات عوامی سطح پر بیان نہیں کی گئیں۔
اب اصل امتحان سعودی عرب کا ہے۔
وہ حوثیوں کے خطرے کو کس حد تک پیچھے دھکیلتا ہے؟
باب المندب کی صورتِ حال کس طرف جاتی ہے؟
بحیرۂ احمر میں جہازرانی کتنی متاثر ہوتی ہے؟
اور سب سے بڑھ کر، مکہ اور سعودی سرزمین پر حملوں کا دائرہ کہاں تک پہنچتا ہے؟
ان سوالوں کے جواب ابھی آنے باقی ہیں۔
لیکن ایک بات واضح ہے۔
جنگ ابھی صرف میزائلوں سے نہیں لڑی جا رہی؛ یہ اتحادوں، مفادات، خاموش ضمانتوں، سفارتی اشاروں اور دفاعی بندھنوں کی جنگ بھی ہے۔
اور مکہ کا معاہدہ شاید اسی بڑی تصویر کا ایک ٹکڑا ہے۔
اس تصویر میں اسلام آباد بھی ہے، ریاض بھی، انقرہ بھی، تہران بھی اور واشنگٹن بھی۔
کون کہاں کھڑا ہوگا، یہ آنے والا وقت بتائے گا۔
فی الحال اتنا سمجھ لیجیے کہ مشرقِ وسطیٰ کی بساط پر مہرے اپنی جگہ بدل رہے ہیں۔
اور جب مہرے خاموشی سے حرکت کریں تو سمجھ لیجیے کہ اصل کھیل ابھی پردے کے پیچھے ہے۔

کوئی تبصرے نہیں