گیم واضح ہونے لگی ہے…! تحریر۔حماز گھمن کبھی کبھی جنگ میدان میں نہیں لڑی جاتی… حالات کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ مخالف خود گھٹنوں تک پانی...
گیم واضح ہونے لگی ہے…!
تحریر۔حماز گھمن
کبھی کبھی جنگ میدان میں نہیں لڑی جاتی…
حالات کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ مخالف خود گھٹنوں تک پانی میں اتر جائے۔
خلیج میں آج جو کچھ ہو رہا ہے، اسے اگر صرف حوثیوں کے میزائل، ڈرونز یا سمندری حملوں کی ایک اور کڑی سمجھا جائے تو شاید ہم اصل کہانی کا صرف ایک صفحہ پڑھ رہے ہیں۔
ذرا پوری کتاب کھولیے۔
باب المندب دباؤ میں ہے۔
آبنائے ہرمز بے چینی کی زد میں ہے۔
سعودی عرب کی مشرق و مغرب توانائی کی تنصیبات خطرات سے دوچار ہیں۔
حوثی حملوں کا دائرہ بڑھا رہے ہیں۔
اور دوسری طرف واشنگٹن براہِ راست جنگ میں کودنے سے گریزاں ہے۔
پھر ایک اور دلچسپ بات سامنے آتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے ٹرمپ انتظامیہ سے رابطہ کرکے براہِ راست امریکی فوجی مداخلت سے گریز کی درخواست کی اور بعض بحری جہازوں کے لیے باب المندب کی آمدورفت کھلی رکھنے کی یقین دہانی کرائی—مگر سعودی عرب اس استثنا میں شامل رہا۔
سوال یہ ہے: آخر سعودی عرب ہی کیوں؟
اسی دوران ٹرمپ اور محمد بن سلمان کے رابطے کی خبر سامنے آتی ہے اور امریکی فوجی مداخلت کی سعودی درخواست کا ذکر بھی ہوتا ہے، تاہم واشنگٹن براہِ راست کارروائی کے بجائے انٹیلی جنس تعاون تک محدود رہنے کا عندیہ دیتا ہے۔
اب یہاں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔
اگر مقصد صرف حوثیوں کو دبانا ہوتا تو پھر دباؤ کی سمت، اس کی نوعیت اور اس کے سیاسی اثرات کو بھی دیکھنا ہوگا۔
کیونکہ جغرافیہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔
باب المندب اور ہرمز—دنیا کی توانائی اور تجارت کی دو انتہائی اہم شریانیں۔
ان میں سے ایک پر دباؤ ہو تو عالمی معیشت بے چین ہوتی ہے، دونوں پر دباؤ ہو تو پورا خطہ سانس روک کر بیٹھ جاتا ہے۔
اور اگر اسی دوران سعودی عرب مسلسل سلامتی کے خطرات محسوس کرے تو سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ حملہ کس نے کیا؟
سوال یہ بن جاتا ہے:
اس دباؤ سے سیاسی فائدہ کس کو ہوگا؟
یہی وہ مقام ہے جہاں ابراہیمی معاہدوں کی بحث، اسرائیل کی علاقائی سفارت کاری، امریکی مفادات اور سعودی عرب کے سیاسی فیصلے ایک دوسرے سے جڑتے دکھائی دیتے ہیں۔
شطرنج کی بساط پر بادشاہ کو شکست دینے کے لیے ہمیشہ اس پر براہِ راست حملہ نہیں کیا جاتا۔
کبھی اس کے گرد کے راستے بند کیے جاتے ہیں…
کبھی مہرے آگے بڑھائے جاتے ہیں…
اور کبھی اسے یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اب محفوظ راستہ صرف وہی ہے جو تمہیں دکھایا جا رہا ہے۔
لیکن اس کھیل میں ایک اور طاقت کو نظرانداز کرنا بھی شاید آسان نہیں ہوگا۔
ترکی۔
خطے میں بدلتی ہوئی صف بندی، ترکی کا بڑھتا ہوا کردار اور مسلم دنیا کی نئی سفارتی حرکیات اس پورے منصوبے کو اتنا سادہ نہیں رہنے دیں گی۔
لہٰذا جو کچھ آج خلیج میں ہو رہا ہے، اسے صرف ایک جنگی واقعہ سمجھنا شاید بہت بڑی تصویر کو چھوٹا کردینا ہے۔
ممکن ہے یہ میزائلوں کی جنگ ہو۔
ممکن ہے یہ سمندری راستوں کی جنگ ہو۔
لیکن اس سے بھی زیادہ ممکن ہے کہ یہ دباؤ کے ذریعے سیاسی فیصلے بدلوانے کی جنگ ہو۔
اور تاریخ گواہ ہے…
بڑی طاقتیں اکثر توپ سے پہلے میز استعمال کرتی ہیں، میزائل سے پہلے سفارت کاری، اور جنگ سے پہلے دباؤ۔
خلیج کی دھند اب چھٹ رہی ہے۔
سوال صرف یہ ہے کہ جب پوری تصویر سامنے آئے گی…
تو اس بساط پر بادشاہ کون ہوگا، مہرے کون ہوں گے، اور آخری چال کس کے ہاتھ میں ہوگی؟

کوئی تبصرے نہیں