Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

کھیل ابھی ختم نہیں ہوا ۔۔تحریر:حماز گھمن

  کھیل ابھی ختم نہیں ہوا حماز گھمن  ​گزشتہ شب مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے آتش فشاں کے دہانے پر کھڑا تھا جس کا لاوا پورے خطے کو نگل سکتا تھا۔ اسرائی...

 

کھیل ابھی ختم نہیں ہوا




حماز گھمن 


​گزشتہ شب مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے آتش فشاں کے دہانے پر کھڑا تھا جس کا لاوا پورے خطے کو نگل سکتا تھا۔ اسرائیل اور امریکہ کے جنگی طیارے ایران پر ایک بڑا اور تباہ کن حملہ کرنے کے لیے بالکل تیار تھے۔ بارود کی بو ہوا میں پھیل چکی تھی اور دھماکوں کا انتظار تھا… لیکن پھر اچانک کہانی میں ایک غیر متوقع موڑ آیا اور جنگ کی یہ خوفناک بلا فی الحال کے لیے ٹل گئی۔

​سوال یہ ہے کہ یہ معجزہ ہوا کیسے؟

​کہانی کے پسِ پردہ وہ سفارتی تحرک تھا جس نے تہران کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے حالات کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے وقت ضائع کیے بغیر مسلم دنیا کی قیادت سے رابطے قائم کیے۔ انہوں نے ترکی، پاکستان اور بالخصوص سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے سامنے صورتِ حال کی نزاکت رکھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان ممالک نے امریکی انتظامیہ پر سفارتی دباؤ بڑھایا اور بالآخر ڈونلڈ ٹرمپ کو متوقع حملے ملتوی کرنا پڑے۔

​لیکن اگر آپ اس پوری صورتِ حال کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو دو ممالک کا طرزِ عمل بے حد معنویت رکھتا ہے۔ ایک طرف اسرائیل تھا جو ہر قیمت پر امریکہ کو اس جنگ میں دھکیلنا چاہتا تھا، اور دوسری طرف سعودی عرب تھا جو ہر ممکن کوشش کر رہا تھا کہ خطہ کسی نئی جنگ کا شکار نہ ہو۔ یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کیونکہ تہران کا تاریخی رویہ ہمیشہ سے تل ابیب اور ریاض کو ایک ہی ترازو میں تولنے کا رہا ہے۔

​اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو اس پورے بحران میں سعودی عرب کا کردار انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ رہا ہے۔ ریاض نے نہ تو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہونے دی اور نہ ہی اسرائیلی طیاروں کو اپنی فضائی حدود کی اجازت دی۔ یہاں تک کہ جب ایران کی طرف سے اسرائیل پر میزائل داغے گئے تو سعودیہ نے انہیں روکنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ مگر اس تمام تر خیر سگالی کے باوجود، ایران کا رویہ عرب دنیا کے حوالے سے ہمیشہ تحفظات کا شکار رہا۔

​ماہرین کے مطابق ایران کی اس پالیسی کے پیچھے دو بڑی وجوہات ہیں:

​طاقت کا توازن اور تاریخ: ماضی میں ایران جب عراق سے نبرد آزما تھا تو اسے ایک کمزور ریاست سمجھا جاتا تھا، لیکن آج صورتِ حال مختلف ہے۔ آج ایران کے پاس جدید اسلحہ ہے، ایک منظم فوج ہے اور خطے میں پراکسیز کا ایک پورا نیٹ ورک موجود ہے۔ موجودہ عالمی فضا میں، جہاں امریکہ اور اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ایران کے لیے اپنے سخت اقدامات کو جواز فراہم کرنا نسبتاً آسان ہو چکا ہے۔

​معاشی اور سیاسی دباؤ کی حکمتِ عملی: آبنائے ہرمز کی کشیدگی کے باوجود دنیا میں تیل کی فراہمی مکمل طور پر معطل نہیں ہوئی، کیونکہ سعودی عرب کے پاس بحیرہ احمر کا متبادل راستہ موجود تھا۔ تہران کی سوچ یہ تھی کہ اگر باب المندب کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں تو سعودی عرب پر معاشی دباؤ پڑے گا، اور وہ مجبورا ًامریکہ پر اثر و رسوخ استعمال کر کے ایران کے مطالبات تسلیم کروانے میں کردار ادا کرے گا۔

​مگر ریاض نے اس بار حکمتِ عملی بدل دی۔ سعودی عرب کے پاس دو راستے تھے: یا تو وہ دباؤ میں آ کر ثالث بنتا، یا پھر اپنی اخلاقی اور دفاعی پوزیشن مضبوط کرتے ہوئے واضح موقف اختیار کرتا۔ سعودیہ نے دوسرے راستے کا انتخاب کیا۔ اس نے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو متحرک کیا بلکہ خطے میں اپنی معاشی اور سیاسی خودداری کا پیغام بھی واضح کر دیا۔

​اس تمام تر ڈرامائی صورتِ حال کا سب سے بڑا سبق خود تہران کے لیے ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں سینئر ایرانی رہنما علی لاریجانی نے بڑے دکھی دل کے ساتھ کہا تھا کہ "آج ہم بالکل اکیلے ہیں"۔ یہ بات سچ تھی، لیکن المیہ یہ ہے کہ ایرانی قیادت نے کبھی اس تنہائی کی بنیادی وجوہات پر ٹھنڈے دل سے غور نہیں کیا۔

​حرفِ آخر:

دنیا کا اصول بڑا سادہ ہے۔ جو ممالک آپ کی جنگیں رکوانے کے لیے دن رات ایک کرتے ہیں، جو آپ کو سفارتی دلدل سے نکالنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہیں، اگر آپ انہیں بھی دوست کے بجائے حریف سمجھتے رہیں گے—تو پھر وقتِ ضرورت تنہا رہ جانے کا گلہ کیسا؟

​تاریخ کا سبق یہی ہے کہ دوست بدلے جا سکتے ہیں، لیکن ہمسائے نہیں۔ اور اگر ہمسائے ہی تحفظ کا احساس نہ دیں، تو پھر ہر فیصلہ توازن کے بجائے تقاضوں کے تحت ہوتا ہے۔


#hummazghumman #Geopolitics #GeoPoliticsNews #iran #KsaRiyadh #Pakistan #BBC #BBCWorld #bbcurdu #CNNInternational #urdunewsinternational

کوئی تبصرے نہیں