زہر ناک خاموشی اور دُہرے معیار تحریر: حماز گھمن آپ کسی رو...
زہر ناک خاموشی اور دُہرے معیار
تحریر: حماز گھمن
آپ کسی روز سکون سے بیٹھیں اور تاریخ کا گریبان پکڑ کر پوچھیں کہ "غفلت کی قیمت کون ادا کرتا ہے؟" تو تاریخ آپ کو کسی دور افتادہ سرحد پر کھڑے اس جوان کی طرف اشارہ کر دے گی جس کے جسم کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔
گزشتہ روز جب افغان حکومت کے ترجمان 'العربیہ انگلش' کے کیمروں کے سامنے بیٹھے تو ان کا لہجہ بدل چکا تھا۔ وہ بڑی سادگی اور معصومیت سے سعودی عرب کے تعمیری کردار کے قصیدے پڑھ رہے تھے اور دوسری طرف پاکستانی عوام سے اپیل کر رہے تھے کہ "اپنے حکمرانوں سے کہیں کہ وہ افغان حکومت سے بات چیت کریں تاکہ دونوں ممالک کے مسائل حل ہو سکیں، کیونکہ افغانستان کے راستے ہی سے پاکستان دنیا کے دیگر ممالک سے جڑ سکتا ہے"۔
یہ جملے سن کر بندہ حیرت سے انگشت بدنداں رہ جاتا ہے۔ یہ وہی بات ہے جو پاکستان برسوں سے، دہائیوں سے ان کے گوش گزار کر رہا تھا۔ لیکن اس وقت موصوفین پر اپنی وفاداری بھارت کے سامنے ثابت کرنے کا بھوت سوار تھا۔ پاکستان کی طرف سے پیش کی جانے والی امن کی ہر خواہش، مذاکرات کی ہر پیشکش اور خطے کو خوشحالی دینے کی ہر کوشش کو وہ ہماری کمزوری سمجھتے رہے۔ انہیں زعم تھا کہ جس طرح چند مفاد پرست یا تعصب کے مارے عناصر ان کا نام لیتے ہوئے کانپتے ہیں، شاید پورا پاکستان ہی اس خوف کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ مگر گزشتہ سال کی پاک بھارت کشیدگی اور پاکستانی فوج کے منہ توڑ جواب نے ان کا یہ فریب اور خمار پل بھر میں ہرن کر دیا اور انہیں اپنی اصلیت اور سچائی کا اندازہ ہو گیا۔
یہ انٹرویو ان تمام تجزیہ کاروں اور دانشوروں کے منہ پر بھی ایک طمانچہ ہے جو پچھلے دو دنوں سے یہ واویلا مچا رہے تھے کہ مذاکرات صرف پاکستان کی مجبوری اور خواہش ہیں۔ سادہ لوح لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پاکستان اب افغانستان کو ایک ایسے جیو پولیٹیکل فیکٹر کے طور پر دیکھ رہا ہے جو عملی طور پر حالتِ جنگ میں ہے۔ ریاستِ پاکستان اب اپنی بقا اور سلامتی کے لیے وہ تمام اقدامات اٹھا رہی ہے جو کسی بھی خود مختار ملک کا حق ہوتے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ جب تک افغان سرحد سے آنے والی بارود کی بو ختم نہیں ہوتی، امن کی کوئی بھی کوشش کبھی بارآور نہیں ہو سکتی۔
لیکن دوسری طرف کا منظرنامہ اس سے بھی زیادہ دردناک اور تکلیف دہ ہے۔
کوہاٹ میں ہونے والے درندگانہ حملے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 31 تک جا پہنچی ہے۔ ان جلتی ہوئی چتاؤں، کٹے ہوئے جسموں اور چیختی ہوئی ماؤں کی چیخوں کے درمیان ان دہشت گردوں کی شناخت، ان کی نسل اور ان کے ٹھکانے بالکل واضح ہو چکے ہیں۔ مگر زہر کا پیالہ دیکھیے! ہمارے ملک کے کسی نام نہاد قوم پرست کے لبوں سے ان بدبختوں اور قاتلوں کے خلاف ایک لفظ نہ نکل سکا۔ ہاں، مگر آپ کو ایسے کئی نام نہاد دانشور ضرور مل جائیں گے جو اس المناک حادثے کے بعد بھی پنجاب کو گالیاں دینے اور سارا ملبہ ایک صوبے پر ڈالنے کی غلیظ سیاست میں مصروف ہیں۔
یہ وہی منافقانہ طبقہ ہے جو دہشت گردوں اور خارجیوں کے خلاف عوام کے دلوں میں نفرت کا علم بلند نہیں ہونے دیتا، اور جب جب قوم ان سانپوں کو دودھ پلاتی ہے، تب تب کسی ماں کی گود اجڑ جاتی ہے اور کسی سہاگن کا سہاگ لٹ جاتا ہے۔
کیا ہم اب بھی اس سانحے سے سبق نہیں سیکھیں گے؟ فیصلہ اب قوم کو کرنا ہے۔
#HummazGhuman #Column #PakistanArmy #KohatAttack #KabulSpokesman #AlArabiyaEnglish #NationalSecurity #PakistanZindabad #AfghanistanSitiuation #PakAfghRelations #TerrorismHasNoReligion #StopSpreadingHate #PakArmyZindabad


کوئی تبصرے نہیں