Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

یمن کے شعلے کس کا دامن خاکستر کریں گے ؟تحریر:حماز گھمن

  یمن کے شعلے کس کا دامن خاکستر کریں گے؟ تحریر: حماز گھمن جنگ کے میدان میں جب بارود کی بو پھیلتی ہے تو اس کی لپیٹ میں صرف مورچے نہیں آتے، ...


 

یمن کے شعلے کس کا دامن خاکستر کریں گے؟

تحریر: حماز گھمن

جنگ کے میدان میں جب بارود کی بو پھیلتی ہے تو اس کی لپیٹ میں صرف مورچے نہیں آتے، سلطنتوں کے خواب، ریاستوں کی ساکھ، اتحادوں کی بنیادیں اور مستقبل کی سیاست بھی دھوئیں میں گھلنے لگتی ہے۔ یمن کی سرزمین پر بھڑکنے والے شعلے بھی بظاہر دو فریقوں کی لڑائی دکھائی دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ معرکہ مشرقِ وسطیٰ کے طاقت کے توازن، خلیجی سیاست کے مستقبل اور عالمِ اسلام کے نئے سیاسی نقشے کا امتحان بن سکتا ہے۔

ایک طرف سعودی عرب ہے، جس کے پاس ریاستی وسائل، سفارتی روابط، مالی قوت اور بین الاقوامی تعلقات کا وسیع دائرہ موجود ہے؛ دوسری طرف حوثی ہیں، جنہوں نے طویل مزاحمت، مقامی جڑوں، عسکری تنظیم اور علاقائی پشت پناہی کے ذریعے اپنے آپ کو ایک معمولی باغی گروہ سے کہیں زیادہ طاقت ور فریق کے طور پر منوانے کی کوشش کی ہے۔

یہاں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ کون میدان جیتے گا؛ اصل سوال یہ ہے کہ شکست کس کے لیے ایک عارضی دھچکا ثابت ہوگی اور کس کے لیے برسوں کی محنت سے تعمیر ہونے والا سیاسی محل زمین بوس کر دے گی۔

ریاض شکست کھا بھی جائے تو سعودی ریاست اپنی جگہ موجود رہے گی، اس کے ادارے کام کرتے رہیں گے اور اس کی معیشت و سفارت کاری کے لیے واپسی کے راستے باقی رہیں گے۔ لیکن حوثیوں کے لیے فیصلہ کن شکست کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہوسکتے ہیں۔ ان کی عسکری قوت، سیاسی حیثیت اور علاقائی اثر و رسوخ کو ایسا دھچکا لگ سکتا ہے جس سے سنبھلنے میں طویل عرصہ درکار ہو۔

گویا ایک ہی میدان میں دو فریق کھڑے ہیں، مگر دونوں کے لیے شکست کے معنی مختلف ہیں۔ ایک کے لیے یہ اقتدار کی آزمائش ہے، دوسرے کے لیے بقا کا سوال بن سکتی ہے۔

حوثی: ایک چھوٹا نام، ایک بڑا چیلنج

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں حزب اللہ کا نام زیادہ گونجتا رہا ہے، مگر حوثیوں نے بھی اپنی عسکری صلاحیت، میزائلوں، ڈرونز اور طویل مزاحمت کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ انہیں محض پہاڑوں میں سرگرم ایک مقامی گروہ سمجھنا بڑی غلطی ہوگی۔

ان کی طاقت کا اندازہ صرف افرادی قوت سے نہیں لگایا جاسکتا۔ جدید جنگ میں تعداد اہم ضرور ہے، لیکن اس کے ساتھ تنظیم، اسلحے کی نوعیت، انٹیلی جنس، رسد، جغرافیائی برتری اور جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ میزائل اور ڈرون اب محض ہتھیار نہیں رہے؛ یہ نسبتاً کم وسائل رکھنے والے فریق کے ہاتھ میں بھی دور بیٹھے حریف کو مسلسل دباؤ میں رکھنے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ یمن کا محاذ سعودی عرب کے لیے محض ایک سرحدی مسئلہ نہیں۔ یہ اس کی دفاعی صلاحیت، عسکری حکمتِ عملی اور علاقائی قیادت کے دعوے کا امتحان بھی ہے۔

جنگ کا میدان کبھی کبھی ریاضی کے اصولوں سے انکار کردیتا ہے۔ ہزاروں کی فوج بھی پہاڑوں میں الجھ سکتی ہے، جبکہ محدود وسائل رکھنے والا فریق اپنے جغرافیے، حوصلے اور جنگی طریقوں سے طاقت ور حریف کو تھکا سکتا ہے۔ افغانستان کی تاریخ ہو یا یمن کے دشوار گزار پہاڑ، ایک سبق بار بار سامنے آتا ہے: میدان میں داخل ہونا آسان ہے، مگر اپنی شرائط پر وہاں سے نکلنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔

ایران کے لیے یمن کیوں اہم ہے؟

اگر حوثیوں کو فیصلہ کن شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کے اثرات یمن کی سرحدوں تک محدود رہنے کا امکان نہیں۔ ایران کے لیے یہ ایک اہم علاقائی دھچکا ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ حوثیوں کے ساتھ اس کے تعلقات نے تہران کو جزیرہ نمائے عرب کے جنوبی حصے میں اثر و رسوخ کا ایک اہم ذریعہ فراہم کیا ہے۔

ایران کی علاقائی حکمتِ عملی محض سرحدوں کے تحفظ تک محدود نہیں رہی؛ اس نے مختلف ممالک میں اپنے اتحادی گروہوں اور سیاسی روابط کے ذریعے ایک ایسا اثر انگیز دائرہ تشکیل دینے کی کوشش کی ہے جس کے ذریعے وہ اپنے حریفوں پر دباؤ برقرار رکھ سکے۔

شام میں ایرانی اثر و رسوخ کو پہنچنے والے نقصانات کے بعد یمن میں کسی بڑی پسپائی کا امکان تہران کے لیے دوہرا امتحان ہوگا۔ ایک طرف اس کے علاقائی نیٹ ورک کی ساکھ متاثر ہوگی، دوسری طرف اس کے مخالفین کو یہ دلیل ملے گی کہ ایران کی سرپرستی بھی ہر محاذ پر کامیابی کی ضمانت نہیں۔

یہاں یمن کی جغرافیائی اہمیت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ آبنائے باب المندب اور بحیرۂ احمر عالمی تجارت کے اہم راستوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس خطے میں اثر و رسوخ کا مطلب صرف زمین کے کسی ٹکڑے پر گرفت نہیں، بلکہ بحری آمدورفت، تجارتی رسد اور عالمی معیشت کے ایک حساس دروازے پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی ہے۔

جو فریق اس خطے میں اپنا وزن برقرار رکھے گا، وہ محض ایک جنگ نہیں لڑے گا بلکہ عالمی تجارت کے ایک اہم راستے کے گرد بننے والی سیاست میں بھی اپنی جگہ محفوظ رکھنے کی کوشش کرے گا۔

سعودی عرب کی شکست کا مطلب کیا ہوگا؟

سعودی عرب کے لیے اس جنگ کا سب سے بڑا خطرہ صرف عسکری نقصان نہیں، بلکہ اس کی علاقائی ساکھ کو پہنچنے والا ممکنہ دھچکا ہے۔

ریاستیں جنگیں ہارتی بھی ہیں اور جیتتی بھی۔ تاریخ میں بڑی بڑی سلطنتوں کو میدانِ جنگ میں شکست ہوئی، لیکن ان کی اصل طاقت اکثر اس صلاحیت میں پوشیدہ رہی کہ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھ کر دوبارہ کھڑی ہوسکیں۔ تاہم کسی ریاست کو ایک ایسے حریف کے ہاتھوں مسلسل دباؤ کا سامنا ہو جو اس کے مقابلے میں وسائل اور ادارہ جاتی قوت کے اعتبار سے کمزور سمجھا جاتا ہو، تو یہ صورتِ حال اس کی سیاسی قیادت کے لیے زیادہ پیچیدہ ہوجاتی ہے۔

اسے یوں سمجھیے کہ ایک پہلوان میدان میں اترے، اس کے پاس طاقت بھی ہو، تجربہ بھی اور وسائل بھی؛ لیکن مقابلے کے دوران وہ اپنے سے کم جسامت رکھنے والے حریف کے سامنے بار بار لڑکھڑانے لگے۔ تماشائی صرف اس کے گرنے کو نہیں دیکھتے، وہ اس کے دوبارہ اٹھنے کی صلاحیت بھی پرکھتے ہیں۔

سعودی عرب کے لیے اصل امتحان بھی یہی ہے۔ اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی عسکری اور سفارتی قوت محض کاغذی برتری نہیں، بلکہ پیچیدہ علاقائی حالات میں نتائج پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

البتہ یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ کسی ایک جنگ کی ناکامی سے سعودی ریاست کا وجود یا مستقبل ختم ہوجائے گا۔ جدید ریاستوں کی طاقت کئی ستونوں پر قائم ہوتی ہے۔ یمن میں ناکامی سعودی عرب کی علاقائی حکمتِ عملی کو نقصان پہنچا سکتی ہے، لیکن اس کے اثرات کا انحصار جنگ کے نتائج، سفارتی حالات، داخلی استحکام اور بعد از جنگ صورتِ حال پر ہوگا۔

افریقہ: جہاں اثر و رسوخ کی شطرنج بچھ چکی ہے

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس کے کھلاڑی صرف اپنے خطے میں نہیں کھیل رہے۔ ان کی چالیں افریقہ تک پھیلی ہوئی ہیں، جہاں بندرگاہیں، بحری راستے، معدنی وسائل، فوجی شراکت داریاں اور سیاسی حکومتیں علاقائی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔

سوڈان میں جنرل عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں قائم فوجی ڈھانچے اور اس کے مخالفین کے درمیان جاری کشمکش نے بیرونی طاقتوں کے کردار کو بھی نمایاں کیا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مفادات کئی معاملات میں مختلف دکھائی دیتے ہیں، اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات کو صرف ایک دوسرے کے مخالف کیمپوں میں تقسیم کرکے سمجھنا بھی درست نہیں۔

لیبیا میں بھی صورتِ حال پیچیدہ ہے۔ وہاں مختلف سیاسی اور عسکری قوتوں کے درمیان مفاہمت کی کوششیں، بیرونی حمایت اور علاقائی مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب کے لیے افریقہ میں اثر و رسوخ بڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بحیرۂ احمر کے دونوں کناروں پر اپنے سیاسی اور تزویراتی روابط کو مضبوط رکھ سکے۔

اگر یمن میں سعودی حکمتِ عملی کو شدید دھچکا لگتا ہے تو اس کے اثرات افریقہ میں اس کی سفارتی حیثیت پر بھی پڑسکتے ہیں۔ تاہم یہ اثرات لازمی یا فوری نہیں ہوں گے، کیونکہ افریقی سیاست کے اپنے محرکات، مقامی طاقتیں اور الگ علاقائی ترجیحات ہیں۔

جغرافیے کی شطرنج میں ایک مہرہ ہلنے سے پوری بساط بدل سکتی ہے، لیکن ہر مہرہ اپنے اصولوں کے مطابق چلتا ہے۔ یمن کا نتیجہ افریقہ کے لیے اہم ضرور ہوسکتا ہے، مگر وہاں کی سیاست کا مستقبل صرف ریاض یا تہران کے فیصلوں سے طے نہیں ہوگا۔

مکہ معاہدہ اور نئے اتحادوں کا امتحان

اس پورے منظرنامے میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کسی دفاعی یا تزویراتی بندوبست سے یہ توقع وابستہ کی جائے کہ وہ علاقائی سلامتی کو مضبوط بنائے گا، تو اس کی حقیقی آزمائش بحران کے وقت ہی ہوتی ہے۔

تاہم کسی بھی معاہدے کی کامیابی کا فیصلہ محض ایک جنگ کے نتیجے سے نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ معاہدے میں باہمی دفاع کی کیا شرائط ہیں، فریقین کے عملی وعدے کیا ہیں اور بحران کی صورت میں ان کے لیے کس نوعیت کے اقدامات لازم ہیں۔

اگر سعودی عرب کو کسی بڑے علاقائی بحران میں اپنے اتحادیوں کی سفارتی، دفاعی یا معاشی مدد درکار ہوتی ہے تو پاکستان اور ترکی کا کردار بھی زیرِ بحث آسکتا ہے۔ لیکن یہ فرض کرلینا کہ سعودی عرب کی ہر ناکامی لازماً پاکستان اور ترکی کی ناکامی ہوگی، سیاسی حقیقت کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنادینے کے مترادف ہوگا۔

اتحاد عمارت کی مانند ہوتے ہیں۔ ان کی مضبوطی کا اندازہ افتتاحی تقریب میں نہیں، زلزلے کی پہلی لرزش پر ہوتا ہے۔ اگر بنیادیں مضبوط ہوں تو عمارت جھٹکے برداشت کرلیتی ہے؛ اگر بنیادیں کمزور ہوں تو معمولی دراڑ بھی خطرے کی گھنٹی بن جاتی ہے۔

تل ابیب اور تہران کی نظریں بھی اسی میدان پر ہیں

یمن کے محاذ پر سعودی کامیابی کے اثرات ایران کے علاوہ اسرائیل کی علاقائی حکمتِ عملی پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔ حوثیوں کی میزائل اور ڈرون صلاحیت، بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو لاحق خطرات اور خطے میں مختلف مسلح گروہوں کی سرگرمیاں اسرائیل کے سلامتی کے تصورات سے براہِ راست تعلق رکھتی ہیں۔

اگر حوثیوں کی عسکری صلاحیت کمزور پڑتی ہے تو اسرائیل کے لیے بعض خطرات میں کمی آسکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ اپنی موجودہ صلاحیت برقرار رکھتے ہیں تو بحیرۂ احمر اور اس سے متصل بحری راستوں میں عدم استحکام کا مسئلہ برقرار رہ سکتا ہے۔

لیکن اس صورتِ حال کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن کسی ایک ملک کی فتح سے ہمیشہ کے لیے طے نہیں ہوجاتا۔ ایک محاذ پر کامیابی دوسرے محاذ پر نئی مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ اسی لیے سعودی کامیابی کو عرب دنیا کے تمام مسائل کا حل اور حوثیوں کی کامیابی کو ایران کی ہر حکمتِ عملی کی فتح قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

اصل سوال یہ ہے کہ جنگ کے بعد خطے میں کون سا سیاسی بندوبست جنم لیتا ہے، کون مذاکرات کی میز پر بیٹھتا ہے اور کون اپنے حریف کو مزید سخت اقدامات پر مجبور کرتا ہے۔

اگلی چال کیا ہوسکتی ہے؟

جنگیں ہمیشہ توپوں کی گھن گرج سے نہیں جیتی جاتیں۔ کبھی سفارت کاری، کبھی معاشی دباؤ، کبھی مقامی اتحادی اور کبھی میدانِ جنگ میں محدود کارروائیاں بڑے نتائج پیدا کرتی ہیں۔ سعودی عرب کے سامنے بھی متعدد راستے ہوسکتے ہیں، لیکن ہر راستے کی اپنی قیمت اور خطرات ہیں۔

شام سے تعلق رکھنے والی کسی عسکری قوت کی ممکنہ شمولیت، سوڈانی فوجی عناصر کے کردار میں اضافہ یا افغانستان سے وابستہ کسی گروہ کی شرکت جیسے امکانات پر قیاس آرائیاں کی جاسکتی ہیں، مگر ان میں سے کسی اقدام کو قابلِ اعتماد شواہد کے بغیر طے شدہ حکمتِ عملی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

کسی تیسرے ملک کے لڑاکوں کو میدان میں اتارنا محض نفری بڑھانے کا معاملہ نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ سیاسی رضامندی، عسکری ہم آہنگی، رسد، کمانڈ، بین الاقوامی ردعمل اور جنگ کے مزید پھیلنے کے خطرات بھی وابستہ ہوتے ہیں۔

ریاض کے لیے سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ وہ کتنے نئے مہرے میدان میں لاسکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ ایسی حکمتِ عملی اختیار کرسکتا ہے جو اسے ایک واضح سیاسی نتیجے تک پہنچائے۔

کیونکہ جنگ میں ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے جب مزید فوجیں بھیجنا مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے مزید پیچیدہ بنادیتا ہے۔ اس مقام پر قیادت کی اصل صلاحیت دشمن کو تباہ کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے مقاصد اور اپنی قیمت کا درست تعین کرنے میں ظاہر ہوتی ہے۔

آخر میں، خاکستر کون ہوگا؟

یمن کی جنگ کو اگر صرف سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان طاقت کی کشمکش سمجھا جائے تو تصویر کا بڑا حصہ نظروں سے اوجھل رہ جائے گا۔ یہ ایران کے علاقائی اثر و رسوخ، سعودی عرب کی قیادت، اسرائیل کے سلامتی کے مفادات، بحیرۂ احمر کی اہمیت اور پاکستان و ترکی سمیت دیگر علاقائی قوتوں کی سفارتی ترجیحات سے جڑا ہوا ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔

اس آگ میں کسی ایک فریق کا نقصان دوسرے کی مکمل فتح کی ضمانت نہیں۔ حوثیوں کی شکست ایران کے لیے دھچکا ہوسکتی ہے، لیکن اس سے خطے کے تمام تنازعات ختم نہیں ہوجائیں گے۔ سعودی عرب کی ناکامی اس کی ساکھ کو متاثر کرسکتی ہے، لیکن اسے ریاستی زوال کا مترادف قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔

تاریخ کا ایک مستقل سبق ہے: جنگ کے میدان میں فتح کا اعلان کرنا آسان، مگر امن کی میز پر اس فتح کو پائیدار بنانا مشکل ہوتا ہے۔ جو فریق صرف دشمن کے مورچے گراتا ہے، وہ شاید ایک معرکہ جیت لے؛ لیکن جو فریق جنگ کے بعد کا سیاسی راستہ بھی متعین کرلے، وہی دیرپا کامیابی کے قریب پہنچتا ہے۔

یمن کے پہاڑوں میں بھڑکنے والے شعلے کس کا دامن پکڑیں گے، اس کا فیصلہ صرف میزائلوں کی رفتار یا فوجوں کی تعداد نہیں کرے گی۔ اس کا فیصلہ حکمتِ عملی، سیاسی بصیرت، علاقائی اتحادوں اور جنگ کے اختتام پر قائم ہونے والے نظام سے ہوگا۔

آگ ابھی دہک رہی ہے، بساط ابھی بچھی ہوئی ہے اور مہرے ابھی چل رہے ہیں۔ لیکن تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ ایک ہی سوال پر آکر ٹھہرتا ہے: کون اپنے حریف کو شکست دینے کے بعد خود بھی اس جنگ کی قیمت ادا کرنے سے بچ پائے گا؟

کیونکہ بعض جنگوں میں دشمن کا شہر خاکستر کرنے والا فاتح دکھائی دیتا ہے، مگر جب دھواں چھٹتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اپنے خوابوں کی چھت بھی راکھ ہوچکی ہے۔


کوئی تبصرے نہیں