Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

کولمبو میں شکست نہیں، خود فریبی کا تسلسل

 کولمبو میں شکست نہیں، خود فریبی کا تسلسل تحریر۔حافظ شفقت حماز گھمن  قصہ وہی رہا جو برسوں سے دیدہ و شنیدہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار اس ک...


 کولمبو میں شکست نہیں، خود فریبی کا تسلسل


تحریر۔حافظ شفقت حماز گھمن 


قصہ وہی رہا جو برسوں سے دیدہ و شنیدہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار اس کہانی کا پس منظر کولمبو تھا—اور شاید شہر کے نام کا اثر بھی کہیں نہ کہیں شاملِ حال رہا، کہ گرین شرٹس کو انڈین ٹیم نے یہاں اس طرح لمبا لتاڑا جیسے مزاحمت کا سوال ہی پیدا نہ ہوا ہو۔

گزشتہ دو میچز سے ایک بات بار بار کہی جا رہی تھی کہ صرف پانچ بیٹرز کے سہارے سری لنکا جیسے کنڈیشنز میں کھیلنا خودکشی کے مترادف ہے۔ یہ کوئی جذباتی ردعمل نہیں بلکہ خالص تکنیکی حقیقت ہے۔ آج وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ پاکستان اپنی اننگز کی صرف تیرھویں گیند پر اپنا آخری مستند بیٹر میدان میں اتار چکا تھا۔ دوسری جانب انڈیا نے نہ صرف پاکستان سے زیادہ بیٹرز آزمائے بلکہ مشکل لمحات میں بھی اس حکمتِ عملی سے چمٹے رہے جو محدود اوورز کی کرکٹ کا بنیادی اصول ہے: بیٹنگ کی گہرائی۔

یہی وجہ تھی کہ درمیانی اوورز میں دباؤ کے باوجود انڈیا ایک مناسب، قابلِ دفاع ہدف دینے میں کامیاب رہا۔ یہاں سے میچ نہیں، اصل میں ذہنیت کا فرق نمایاں ہونا شروع ہوا۔

نہ جانے یہ کسی آسیب کا سایہ ہے یا مسلسل غلط فیصلوں کی روایت، کہ پاک کرکٹ مینجمنٹ ہمیشہ ٹیم میں کوئی نہ کوئی خلا ضرور چھوڑ دیتی ہے—اور نقصان بھی وہیں سے اٹھاتی ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے ہر بار نیا تجربہ اسی پرانی قیمت پر کیا جاتا ہے۔ کچھ برس پہلے سات بیٹرز اور کمزور بالنگ لائن کے ساتھ میدان میں اترنا معمول تھا، آج اگر بالنگ نسبتاً بہتر ہے مگر بیٹنگ کا صفحہ تقریباً خالی چھوڑ دیا گیا ہے۔ توازن نام کی شے شاید ہماری لغت میں کبھی شامل ہی نہیں رہی ہے ۔

شاہین شاہ آفریدی کی کارکردگی حسبِ توقع رہی—یا شاید حسبِ حال کہنا زیادہ درست ہوگا۔ یہ بات تو کب کی ثابت ہو چکی تھی کہ ویرات کوہلی، بابر اعظم سے بڑا اور زیادہ فیصلہ کن بیٹر ہے، مگر اب یہ حقیقت بھی پوری طرح عیاں ہو چکی ہے کہ شاہین جیسے دس باہم مل کر بھی جسپریت بمرا کے معیار کو نہیں چھو سکتے۔

یہ پچ تاریخی طور پر پیسرز کے لیے مددگار رہی ہے۔ انڈیا نے اس حقیقت سے منہ نہیں موڑا۔ ہاردک پانڈیا اور بمرا کے ذریعے حملے کا آغاز کیا گیا، لائن اور لینتھ پر سمجھوتہ کیے بغیر، اور نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ اسی تناظر میں دیکھا جائے تو شاہین کی موجودہ فارم محض خراب نہیں، تشویش ناک ہو چکی ہے۔

اس سب کے درمیان سب سے بڑا سوال ٹیم سلیکشن کا ہے۔ کیا یہ المیہ نہیں کہ فخر زمان بنچ پر بیٹھا ہے، جبکہ آغا سلمان نہ صرف ٹیم میں شامل ہیں بلکہ قیادت کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں؟ مزید یہ کہ بابر کی بیٹنگ پوزیشن تبدیل کر کے اس کی فطری افادیت بھی ختم کر دی گئی۔ ٹورنامنٹ کے آغاز پر بڑے فخر سے کہا گیا تھا کہ کسی کی جگہ پکی نہیں—اور مثال بابر اور فخر کی دی گئی تھی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ اصول سب پر لاگو ہوتا ہے، یا صرف چند ناموں تک محدود رہتا ہے؟

پاکستان کے روٹھنے اور منانے کے اس مرحلے کے بعد یہ یک طرفہ مقابلہ کسی بھی طور شایانِ شان نہیں تھا۔ مگر کیا واقعی کسی مختلف نتیجے کی امید کی جا سکتی تھی؟ شاید نہیں۔ جب فیصلے میدان سے پہلے ہار مان چکے ہوں تو نتیجہ صرف اسکور بورڈ پر لکھا جاتا ہے۔

یوں ایک اور شکست، شکستوں کے سلسلے میں شامل ہو گئی، اور اتوار کی ایک اور سنہری شام صرف ایک سوال چھوڑ گئی:

سوچنا یہ ہو گا کیا ہم واقعی ہار رہے ہیں، یا بس خود کو دھوکا دینے کی عادت نہیں چھوڑ پا رہے؟

کوئی تبصرے نہیں