Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

بنگلہ دیش میں سیاسی ہلچل کے بعدعوام کا تاریخی انتخابی فیصلہ

 بنگلہ دیش میں سیاسی ہلچل کے بعدعوام کا تاریخی انتخابی فیصلہ تحریر:حافظ شفقت حماز گھمن  بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات نے ملک کی سیاست کو  ایک ...

 بنگلہ دیش میں سیاسی ہلچل کے بعدعوام کا تاریخی انتخابی


فیصلہ


تحریر:حافظ شفقت حماز گھمن 


بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات نے ملک کی سیاست کو  ایک بار پھر بڑے موڑ پر آن کھڑا کیا ہے ۔ حالیہ عام انتخابات نے نہ صرف اقتدار کا توازن بدل دیا بلکہ ملک کی آئندہ سیاسی سمت کا تعین بھی کر دیا۔ 13ویں قومی اسمبلی کے لیے ہونے والے اس انتخاب میں عوام نے واضح اور دو ٹوک فیصلہ سنایا، جس کے اثرات صرف ڈھاکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔


انتخابی پس منظر اور عبوری دور

یہ انتخابات ایک غیر معمولی سیاسی ماحول میں منعقد ہوئے۔ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی طویل حکمرانی کے خاتمے اور عوامی احتجاج کے بعد ملک میں عبوری حکومت قائم کی گئی۔ اس عبوری سیٹ اپ کی قیادت نوبل انعام یافتہ شخصیت محمد یونس نے کی، جن پر آزادانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کی ذمہ داری تھی۔ عوامی توقعات بلند تھیں اور عالمی مبصرین کی نظریں بھی اسی عمل پر مرکوز رہیں۔

نتائج: واضح اکثریت اور نئی صف بندی

انتخابی نتائج نے سب کو حیران کر دیا۔ Bangladesh Nationalist Party (بی این پی) نے تقریباً 209 سے زائد نشستیں حاصل کر کے دو تہائی اکثریت حاصل کی۔ یہ اکثریت محض حکومت سازی کے لیے نہیں بلکہ آئینی و پارلیمانی اصلاحات کے لیے بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے۔ بی این پی کی اس کامیابی نے ملک میں اقتدار کا نقشہ بدل دیا ہے۔

دوسری جانب Bangladesh Jamaat-e-Islami نے 60 سے زائد نشستیں حاصل کر کے خود کو ایک مضبوط حزبِ اختلاف کے طور پر منوایا۔ چھوٹی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے بھی محدود مگر معنی خیز نمائندگی حاصل کی، تاہم اصل مقابلہ بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان ہی رہا۔


قیادت کی تبدیلی اور نئی امیدیں

بی این پی کے قائد طارق رحمن کے وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار ہو چکی ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تقاریر میں کرپشن کے خاتمے، معیشت کی بحالی اور گڈ گورننس کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ عوامی توقعات پر پورا اتر سکیں گے؟ بنگلہ دیش کو اس وقت معاشی دباؤ، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے مضبوط اور مستقل مزاج قیادت درکار ہوگی۔


ریفرنڈم اور آئینی اصلاحات

اس انتخاب کے ساتھ ایک اہم ریفرنڈم بھی منعقد ہوا، جس میں اکثریت نے آئینی اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا۔ اس اقدام کو بنگلہ دیش کی جمہوری تاریخ میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ دو تہائی اکثریت رکھنے والی حکومت کے لیے اب یہ ممکن ہوگا کہ وہ پارلیمنٹ میں بڑی آئینی ترامیم متعارف کرا سکے۔


علاقائی اور عالمی اثرات

بنگلہ دیش جنوبی ایشیا کی ایک اہم ریاست ہے۔ وہاں کی سیاسی تبدیلیاں خطے کی سفارت کاری اور معاشی تعلقات پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔ بی این پی کی حکومت سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کی نوعیت میں تبدیلی کے امکانات بھی زیرِ بحث ہیں۔ عالمی طاقتیں بھی نئی حکومت کی پالیسیوں کا بغور جائزہ لے رہی ہیں۔

نتیجہ

یہ انتخابات محض حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک نئے سیاسی باب کا آغاز ہیں۔ عوام نے جس اعتماد کے ساتھ بی این پی کو مینڈیٹ دیا ہے، وہ ایک امتحان بھی ہے اور موقع بھی۔ اگر نئی قیادت شفافیت، احتساب اور معاشی استحکام کے وعدے پورے کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو بنگلہ دیش سیاسی استحکام کی نئی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ تاریخی موقع بھی ماضی کی طرح سیاسی کشمکش کی نذر ہو سکتا ہے۔

وقت ثابت کرے گا کہ یہ فیصلہ بنگلہ دیش کے لیے استحکام کا پیش خیمہ بنتا ہے یا ایک اور آزمائش کی ابتدا۔

کوئی تبصرے نہیں