Skip to content Facebook Youtube Instagram X-twitter Tiktok آسان الفاظ میں مصنوئ ذہانت کو سمجھنےکا پلیٹ فام 55 زبانوں میں بات چیت ...
Miraj Roonjha - No Comments
- Google TranslateGemma, Language Technology, Multilingual AI, Open Source Translation, Translation Models

55 زبانوں میں بات چیت کے لیے گوگل کا نیا تحفہ
گوگل نے ایک نیا ترجمے کا سافٹ ویئر متعارف کرایا ہے جو 55 مختلف زبانوں میں بات چیت کو آسان بنائے گا۔ اس نئے سافٹ ویئر کا نام ٹرانسلیٹ گاما ہے اور یہ خاص بات یہ ہے کہ یہ مفت اور ہر کسی کے لیے دستیاب ہے۔ گوگل نے اسے تین مختلف ورژن میں بنایا ہے تاکہ موبائل فون سے لے کر طاقتور کمپیوٹرز تک ہر جگہ استعمال ہو سکے۔
اس نئے ترجمے کے سافٹ ویئر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ چھوٹے ورژن بھی بڑے ورژن جتنا اچھا کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جس طرح ایک چھوٹی گاڑی بھی بڑی گاڑی جتنی تیزی سے چل سکتی ہے اگر اس کا انجن اچھا ہو، اسی طرح گوگل نے یہاں بھی کمال کیا ہے۔ ان کا درمیانے سائز کا ورژن اپنے سے دوگنے بڑے ورژن سے بھی بہتر ترجمہ کرتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے بہت اچھی خبر ہے جو موبائل فون یا عام لیپ ٹاپ پر ترجمہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اب انہیں بہت مہنگے کمپیوٹر کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
گوگل نے اس سافٹ ویئر کو 55 مختلف زبانوں پر آزمایا اور دیکھا کہ یہ کتنا اچھا کام کرتا ہے۔ ان زبانوں میں بڑی بڑی زبانیں جیسے انگلش، چینی، ہسپانوی اور فرانسیسی تو شامل تھیں ہی، لیکن ساتھ ہی وہ چھوٹی زبانیں بھی شامل تھیں جن کو بولنے والے کم لوگ ہیں۔ تمام زبانوں میں یہ نیا سافٹ ویئر پرانے ورژن سے کہیں بہتر ثابت ہوا اور غلطیاں بہت کم کیں۔
اب سوال یہ ہے کہ گوگل نے یہ کمال کیسے کیا؟ اس کا جواب بہت آسان ہے۔ انہوں نے دو مرحلوں میں کام کیا۔ پہلے مرحلے میں انہوں نے اپنے سافٹ ویئر کو ہزاروں مثالوں سے سکھایا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی بچہ اسکول میں سیکڑوں مثالیں دیکھ کر کوئی چیز سیکھتا ہے۔ گوگل نے انسانوں کے کیے ہوئے اچھے ترجمے اور اپنے جدید کمپیوٹر پروگراموں کے بنائے ہوئے ترجمے، دونوں سے سیکھنے کا موقع دیا۔
دوسرے مرحلے میں گوگل نے ایک اور خاص طریقہ استعمال کیا جسے آسان زبان میں یوں سمجھیں کہ جس طرح کوئی استاد اپنے شاگرد کو بتاتا ہے کہ تمہارا جواب اچھا ہے یا غلط ہے، اسی طرح گوگل نے اپنے سافٹ ویئر کو بار بار جانچا اور بتایا کہ کون سا ترجمہ زیادہ صحیح اور قدرتی لگتا ہے۔ اس طریقے سے سافٹ ویئر نے سیکھا کہ کس طرح ایسے جملے بنائے جائیں جو بالکل فطری اور صحیح لگیں۔
گوگل نے ابھی تک 55 زبانوں پر پوری طرح کام کیا ہے اور اطمینان رکھتا ہے کہ ان میں ترجمہ بہترین ہے۔ ان میں وہ زبانیں شامل ہیں جو دنیا بھر میں کروڑوں لوگ بولتے ہیں اور وہ بھی جنہیں کم لوگ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اس سے بھی آگے جا کر، گوگل نے تقریباً 500 اور زبانوں پر بھی ابتدائی کام کر لیا ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ دنیا بھر کے محققین اور تکنیکی ماہرین اس کام کو آگے بڑھا سکیں اور اپنی مقامی زبانوں کے لیے ترجمے کو مزید بہتر بنا سکیں۔
ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سافٹ ویئر صرف عام متن کا ہی ترجمہ نہیں کرتا بلکہ تصاویر میں لکھے ہوئے الفاظ کا بھی ترجمہ کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی غیر ملکی بورڈ یا اشتہار کی تصویر کھینچیں جس پر کچھ لکھا ہو، تو یہ سافٹ ویئر اس کا ترجمہ بھی کر سکتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ گوگل نے خاص طور پر اسے تصاویر پر کام کرنے کی تربیت نہیں دی تھی، لیکن پھر بھی یہ یہ کام اچھے سے کر لیتا ہے۔
گوگل نے یہ سافٹ ویئر تین سائز میں بنایا ہے تاکہ مختلف لوگ اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کر سکیں۔ سب سے چھوٹا ورژن موبائل فونز اور چھوٹے آلات کے لیے بنایا گیا ہے۔ اگر آپ سفر میں ہیں یا اپنے فون پر فوری ترجمہ چاہتے ہیں تو یہ ورژن آپ کے لیے بہترین ہے۔ درمیانے سائز کا ورژن عام لیپ ٹاپس پر آسانی سے چل سکتا ہے، یعنی گھر بیٹھے آپ اپنے ذاتی کمپیوٹر پر اعلیٰ معیار کا ترجمہ کر سکتے ہیں۔ سب سے بڑا ورژن ان لوگوں کے لیے ہے جو انتہائی اعلیٰ معیار چاہتے ہیں اور بڑے کمپیوٹرز استعمال کرتے ہیں۔
یہ نیا سافٹ ویئر مکمل طور پر مفت ہے اور ہر کوئی اسے استعمال کر سکتا ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین اور پروگرامر اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں اور اپنی ضرورت کے مطابق بدل بھی سکتے ہیں۔ یہ کیگل اور ہگنگ فیس جیسی ویب سائٹس سے دستیاب ہے۔ گوگل کا کہنا ہے کہ ان کی امید ہے کہ دنیا بھر کے لوگ اس ٹیکنالوجی کو استعمال کریں گے اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگوں کے درمیان بات چیت کو آسان بنائیں گے۔
اس نئے سافٹ ویئر کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اب ترجمے کی سہولت صرف امیر ملکوں یا بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہے گی۔ ایک عام شخص بھی اپنے موبائل فون پر یا اپنے پرانے لیپ ٹاپ پر اعلیٰ معیار کا ترجمہ حاصل کر سکے گا۔ یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو چھوٹی زبانیں بولتے ہیں اور جن کے لیے پہلے اچھے ترجمے کی سہولت نہیں تھی۔
گوگل نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں بھی تمام معلومات شیئر کر دی ہیں تاکہ دوسرے لوگ بھی اس کام کو سمجھ سکیں اور آگے بڑھا سکیں۔ یہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا قدم ہے جو زبان کی دیواریں گرانے اور دنیا بھر کے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں مدد کرے گا۔

Miraj Roonjha
Hi! I’m Mairaj Roonjha, a Computer Science student, Web developer, Content creator, Urdu AI blogger, and a changemaker from Lasbela, Balochistan. I’m currently studying at Lasbela University of Agriculture, Water and Marine Sciences (LUAWMS), where I focus on web development, artificial intelligence, and using tech for social good. As the founder and lead of the Urdu AI project, I’m passionate about making artificial intelligence more accessible for Urdu-speaking communities. Through this blog, I aim to break down complex tech concepts into simple, relatable content that empowers people to learn and grow. I also work with the WALI Lab of Innovation to help reduce the digital divide in rural areas.

No Comments