**اہم پریس کانفرنس اور وزیر داخلہ کا خطاب... مدعا کیا ہے؟** *(تحریر: حماد گھمن)* آپ اگر وزیر داخلہ محسن نقوی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی حا...
**اہم پریس کانفرنس اور وزیر داخلہ کا خطاب... مدعا کیا ہے؟**
*(تحریر: حماد گھمن)*
آپ اگر وزیر داخلہ محسن نقوی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ گفتگو کے تار جوڑیں اور ان کے اشاروں کی غزلیں باہم ملا کر پڑھیں، تو منظر نامے پر دو باتیں بالکل شیشے کی طرح شفاف ہو کر سامنے آتی ہیں!
**پہلی بات:** ملک میں 28ویں آئینی ترمیم لائی جا رہی ہے، جس کے ذریعے نئے صوبے تشکیل دیے جائیں گے۔
**دوسری بات:** اسی ترمیم کے راستے سے ملک میں صدارتی نظامِ حکومت کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔
اس سچائی سے انکار ممکن ہی نہیں کہ ہمارے موجودہ صوبوں کی سرحدیں جغرافیائی سے زیادہ لسانی بنیادوں پر قائم ہوئی تھیں۔ پھر جلتی پر تیل کا کام آبادی کے غیر متوازن تناسب نے کیا۔ نتیجہ؟ پنجاب پر ہمیشہ یہ الزام لگتا رہا کہ اقتدار کی چابیاں صرف اسی کے پاس رہتی ہیں۔ اس احساسِ محرومی کو کم کرنے کے لیے سینیٹ کا ادارہ بنایا گیا، مگر بات نہ بن سکی۔
سقوطِ ڈھاکہ سے پہلے تک ملک کی کلیدی سیاسی اور ریاستی قیادت زیادہ تر بنگالیوں کے پاس ہوا کرتی تھی۔ لیکن 1971ء کے بعد آہستہ آہستہ پنجاب کا اثر و رسوخ بڑھتا چلا گیا۔ جب سینیٹ بھی چھوٹے صوبوں کے تحفظات دور نہ کر سکی، تو عارضی جڑی بوٹیوں سے علاج کی کوشش کی گئی— جیسے پچھلی بار بلوچستان سے نگران وزیر اعظم لایا گیا۔ لیکن کیا عارضی پٹی سے گہرا زخم بھر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں!
دوسری طرف موجودہ سیاسی نظام بھی مسائل کا گڑھ بن چکا ہے۔ دو خاندانی جماعتیں دہائیوں سے باری باری اقتدار کا کیک کاٹ رہی ہیں۔ اس جمود کو توڑنے کے لیے عمران خان کا تجربہ کیا گیا، لیکن وہ تجربہ ایسا بوم رنگ ثابت ہوا کہ سب کے ہاتھ جل گئے۔ اب نئے صوبے بنانے کا ایک بڑا مقصد یہ بھی ہے کہ سیاسی افق پر نئے چہرے، نئی قیادت اور نئی طاقتیں سامنے لائی جا سکیں۔
صدارتی نظام پر پرانی سیاسی جماعتوں کو شدید تحفظات ہیں، لیکن اس ترمیم کے ذریعے کراچی، گوادر اور کشمیر جیسے حساس ترین مسائل کا دائمی حل تلاش کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ تمام اقدامات بذاتِ خود غلط نہیں ہیں۔ اگر یہ طے پا جائے تو شکایتیں کم ہوں گی، انتظامی امور آسان ہوں گے اور عوام کو راحت ملے گی۔
**مگر ٹھہریے!**
یہاں ایک ایسا تلخ سچ ہے جس سے آنکھیں چرانا خود کو دھوکے میں رکھنے کے مترادف ہے۔
آپ چاہے پچاس صوبے بنا لیں، چاہے نظامِ حکومت یکسر بدل دیں... **اس ملک میں سدھار تب تک ممکن ہی نہیں جب تک اسٹیبلشمنٹ اپنے دل سے "کپتانی" کا شوق نہیں نکال دیتی!**
جب تک اسٹیبلشمنٹ سیاست دانوں کو اپنی انگلی کے اشارے پر نچانے کا کھیل بند نہیں کرے گی، جب تک سیاسی انجینئرنگ کا یہ کارخانہ چلتا رہے گا، تب تک مسائل کم ہونے کے بجائے مزید دلدل بنتے چلے جائیں گے۔
آپ ذرا اس مذاق کی نفاست تو دیکھیے! اس پورے نئے ڈرامے کا آغاز ہی موجودہ سیاسی نظام کو "ناکام" قرار دے کر کیا جا رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس ناکامی میں اسٹیبلشمنٹ کے اپنے کردار پر کوئی سوال اٹھائے گا؟ کوئی اعتراض؟ کوئی شکوہ؟ کوئی شکایت؟
اور اس سے بھی بڑا لطیفہ دیکھیے... ملک میں بظاہر ایک منتخب حکومت موجود ہے، مگر قوم کے سامنے آ کر اس اتنے بڑے، حساس اور آئینی معاملے پر بحث کا آغاز کون کر رہا ہے؟ اسٹیبلشمنٹ کے منظورِ نظر وزیرِ داخلہ!
سچ پوچھیے تو جب تک درد کی اصل وجہ کا علاج نہیں ہوگا، محض سیاسی بساط کی گوٹیاں بدلنے سے پاکستان کا مقدر نہیں بدلے گا۔
#HammadGhumman #PakistanPolitics #ConstitutionalAmendment #SystemChange #InteriorMinister #DGISPR #PoliticalAnalysis

کوئی تبصرے نہیں