Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

جناب اشرفی کے آنسو اور ہمارا المیہ ۔تحریر حماز گھمن

 "جناب اشرفی کے آنسو" اور ہمارا​المیہ!     تحریر ۔حماز گھمن  کمال نواز کی شخصیت نام کی طرح کمال ہے اور ان کی تحریر کے تو کیا کہنے ...


 "جناب اشرفی کے آنسو" اور ہمارا​المیہ!  


  تحریر ۔حماز گھمن 


کمال نواز کی شخصیت نام کی طرح کمال ہے اور ان کی تحریر کے تو کیا کہنے ،میں بحثیت صحافت کا طالب علم ان کی تحریر کا بہت بڑا فین ہوں ۔​صرف چوبیس گھنٹے! جی ہاں، چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں جناب کمال نواز کی  تحریر "جنابِ اشرفی کے آنسو" کو سوا لاکھ سے زائد قارئین نے پڑھا۔ یقینا ایک لکھنے والے کے لیے اس سے بڑی پذیرائی اور کیا ہو سکتی ہے؟ ظاہر ہے، یہ محبت کمال بھائی کو بھی اچھی لگی ہوگی،ان کا دل بھی باغ باغ ہو گیا ہوگا۔ لیکن! اس خوشی کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی تلخ حقیقت بھی سامنے آئی جس پر برادرم کمال نواز کو فیس بک پیج پر کمنٹس کا آپشن صرف اپنے قریبی حلقے تک محدود کر دیا۔

​کیوں؟ آخر ایسی کیا قیامت آ گئی تھی کہ انہیں چوبیس گھنٹے کے اندر ہی اپنی وال کے دروازے بند کرنا پڑے؟ اس کی تین بڑی اور بنیادی وجوہات ہیں۔

​پہلی وجہ: اخلاقی دیوالیہ پن

​ان کی  وال سے جڑے احباب بخوبی جانتے ہیں کہ "جنابِ اشرفی کے آنسو" ایک خالص ادبی اور ہلکی پھلکی طنزیہ تحریر تھی۔ اس میں طنز کا نشتر ضرور تھا، مگر بدتمیزی، دشنام طرازی یا تضحیک کا دور دور تک کوئی نام نشان نہیں تھا۔ مگر جیسے ہی یہ تحریر پبلک ہوئی اور دور تک سفر کر گئی، تبصروں میں بدزبانوں اور دریدہ دہنوں کا ایک ایسا طوفان امڈ آیا کہ الامان والحفیظ!

​ہمیں ماننا ہوگا کہ اب نہ گھروں میں تربیت بچی ہے اور نہ ہی درسگاہوں میں سلیقہ سکھایا جاتا ہے۔ ہماری نئی نسل یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ اختلافِ رائے کا واحد مطلب ننگی گالیاں دینا ہے۔ قارئین! میرا نہیں خیال کہ کسی بھی اچھے لکھاری یا کالم نگار کو ایسے بیمار ذہنوں کے "لائکس" کی کوئی ضرورت ہو۔ اچھے لکھاری کی وال کا اصل سرمایہ وہ چند شائستہ، باذوق اور تمدن یافتہ لوگ ہیں جو لفظ کی حرمت کو سمجھتے ہیں۔

​دوسری وجہ: سٹیکرز کا طاعون

​ہمیں سوشل میڈیا پر ان بے معنی، مضحکہ خیز اور الٹی سیدھی تصاویر اور سٹیکرز سے شدید چڑ ہے جو لوگ کمنٹس بار میں چسپاں کر دیتے ہیں۔ رہی سہی کسر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) نے پوری کر دی ہے، جس نے ان نکموں کا کام مزید آسان کر دیا ہے۔ جو دو جملے ڈھنگ کے لکھ نہیں سکتے، وہ تصویریں چپکا کر محفل کا رنگ غارت کر دیتے ہیں۔

​تیسری وجہ: رومن اردو کا ناسور

​میں رومن رسم الخط کو اردو زبان کے قتلِ عام کے مترادف سمجھتا ہوں۔ اگر ہمیں اپنی پیاری زبان کا تحفظ کرنا ہے تو رومن اردو کے آگے بند باندھنا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ میں رومن میں لکھے گئے تبصروں کو نہ تو پڑھتا ہوں اور نہ ہی ان کا جواب دیتا ہوں۔ میں نے چند ماہ پہلے "فالو" کا آپشن آن کیا تھا تاکہ بات دور تک پہنچے، لیکن اس کا منفی پہلو یہ نکلا کہ ہر طرح کا کچرا وال پر جمع ہونے لگا۔ جنہیں ابھی لکھنا اور بولنا سیکھنا چاہیے تھا، وہ سٹیکرز چسپاں کر کے یا رومن لکھ کر بزمِ ادب کا ماحول خراب کر رہے ہیں۔

​اور سب سے بڑا المیہ!

​گفتگو کے اس بگاڑ میں صرف عام قاری قصوروار نہیں ہے۔ اس حمام میں تو ہمارے بڑے بڑے نامور ادیب اور لکھاری بھی ننگے ہو چکے ہیں۔ فیس بک پر "بابا کوڈا" جیسے کرداروں نے گالی گلوچ اور یاوہ گوئی کو باقاعدہ ایک "فن" بنا کر پیش کیا۔ پھر کیا ہوا؟ کچھ دوسرے بڑے اور فالورز کے بھوکے لکھاری بھی اسی شاہراہِ زوال پر چل نکلے۔ ان کی تحریر تب تک مکمل ہی نہیں ہوتی جب تک اس میں غلیظ، فحش اور تضحیک آمیز الفاظ کا لباب نہ جھلکے۔

​نادان قاری نے سمجھا کہ شاید یہی جدید ادب کا کمال ہے! چنانچہ دیکھا دیکھی اچھے بھلے پاکیزہ گفتار لوگ بھی اس لت کا شکار ہو گئے۔

​یاد رکھیے! ادیب اگر یاوہ گو ہو جائے تو اس سے بڑھ کر کوئی کفرانِ نعمت نہیں ہے۔ اگر خدا نے آپ کو قلم کی طاقت اور لکھنے کا سلیقہ دیا ہے تو اسے ڈھنگ سے استعمال کریں۔ اگر کسی پر چوٹ بھی کرنی ہے تو ادیبانہ پیرائے میں کیجیے۔ یقین جانیے، جو کاٹ ایک ادیب کے شائستہ اور چلبلی جملے میں ہوتی ہے، وہ دنیا کی غلیظ ترین گالی میں بھی نہیں ہو سکتی۔

​قارئین! ہم پورے معاشرے کا سدھار تو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے، لیکن اتنا تو کر سکتے ہیں کہ خود شائستہ سخنی کی خو اپنائیں اور اپنی وال پر تبصرہ کرنے والوں کو بھی اس کا عادی بنائیں۔ فیس بک کے ان یاوہ گو عناصر کو پہلی فرصت میں بلاک کر دیا جائے۔

​ہم سورج نہیں اٹھا سکتے، اندھیرے کا جگر چاک نہیں کر سکتے، لیکن اپنے حصے کی ایک شمع تو جلا سکتے ہیں! ہمیں اپنے حصے کا چراغ جلانا ہوگا۔

کوئی تبصرے نہیں