Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

کاک روچ ،جنتر منتر اور سڑک پر اترتا ہند ۔تحریر :حماز گھمن

 کاک روچ، جنتر منتر اور سڑک پر اترتا ہند تحریر: حماز گھمن  ​آپ کبھی نئی دہلی کے تاریخی "جنتر منتر" سے گزریں تو آپ کو احساس ہوگا کہ...


 کاک روچ، جنتر منتر اور سڑک پر اترتا ہند


تحریر: حماز گھمن 


​آپ کبھی نئی دہلی کے تاریخی "جنتر منتر" سے گزریں تو آپ کو احساس ہوگا کہ یہ صرف ایک عمارت یا پتھروں کا ڈھانچہ نہیں ہے، یہ ہندوستان کے بیدار اور مضطرب ضمیر کا ایک زندہ اشتہار ہے۔ وہاں ہواؤں میں نعرے تیرتے ہیں، بینرز پر خواب لکھے ہوتے ہیں اور وہاں کی زمین پر روزانہ سینکڑوں قدم اپنے حقوق کی تلاش میں تھکتے اور دوبارہ کھڑے ہوتے ہیں۔

​ان دنوں راجدھانی کا یہ دل دہل رہا ہے۔ وہاں ایک ایسی تحریک جنم لے چکی ہے جس نے اقتدار کے ایوانوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔

​داستان کا آغاز ہوتا ہے ملک کے لاکھوں طلباء کے ٹوٹتے ہوئے خوابوں سے۔ NEET-UG اور UGC-NET جیسے بڑے اور معتبر مقابلہ جاتی امتحانات میں پیپر لیک ہونے کے واقعات نے ہندوستان کے متوسط اور غریب طبقے کے ان بچوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا جو راتوں کو جاگ کر اپنی آنکھوں میں ڈاکٹر اور افسر بننے کے خواب سجاتے ہیں۔ نتیجہ کیا نکلا؟ سوشل میڈیا کی دنیا سے ایک عجیب اور غریب نام کے ساتھ ایک تحریک ابھری—"کاک روچ جنتا پارٹی" (CJP)۔ نام پڑھ کر شاید آپ مسکرا دیں، لیکن اس نام کے پیچھے چھپا درد اور غصہ انتہائی ہولناک ہے۔ اس تنظیم کی قیادت میں نوجوان سڑکوں پر آ چکے ہیں۔ ان کا مطالبات کا چارٹر بالکل سادہ اور شفاف ہے: امتحانی نظام قائم کرنے والی نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کی جوابدہی طے کی جائے، اینٹی پیپر لیک قانون کا ڈنڈا بلا تفریق چلایا جائے، فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم ہوں اور جن بچوں کا سال اور پیسہ ضائع ہوا ہے انہیں ہرجانہ دیا جائے۔

​لیکن داستان ابھی ختم نہیں ہوئی۔

​جنتر منتر کا یہ اسٹیج صرف طلباء تک محدود نہیں رہا۔ وہ کہتے ہیں نہ کہ جب درد مشترک ہو تو فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ لداخ کے برفانی پہاڑوں سے ایک درد مند آواز اٹھی—یہ آواز تھی معروف ماہرِ تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگچک کی۔ سونم وانگچک وہی شخص ہیں جن کی زندگی سے متاثر ہو کر بالی ووڈ کی مشہور فلم "تھری ایڈیٹس" بنائی گئی تھی۔ وہ اپنے چار بنیادی مطالبات لے کر ان نوجوانوں کے ساتھ آ کھڑے ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ لداخ کے نازک ماحولیات اور قبائلی ثقافت کو صنعت کاروں کی ہوس سے بچانے کے لیے آئین کے "چھٹے شیڈول" (6th Schedule) کا نافذ ہونا ضروری ہے۔ لداخ کو محض یونین ٹیریٹری بنانے کے بجائے مکمل ریاست کا درجہ دیا جائے، لوک سبھا میں نشستیں بڑھائی جائیں اور مقامی لوگوں کے روزگار کا تحفظ کیا جائے۔

​دوسری طرف، جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت—ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس—بھی اسی جنتر منتر پر کھڑی نظر آتی ہے، جو اپنے چھینے گئے "ریاستی درجے" (Statehood) کی بحالی کا تقاضا کر رہی ہے۔

​پھر کیا ہوا؟ حکومت نے اس آواز کو دبانے کے لیے وہی پرانا طریقہ اپنایا جو دنیا کی ہر انتظامیہ اپنایا کرتی ہے۔ بیریکیڈز کھڑے کر دیے گئے، پولیس کی لاٹھیاں برسیں، آنسو گیس کے گولے چھوڑے گئے اور یہاں تک کہ دہلی میٹرو کے 16 سے زائد اسٹیشنز کو بند کر دیا گیا تاکہ بھیڑ کو جمع ہونے سے روکا جا سکے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی قوم کے نوجوان اور مفکر ایک پیج پر آ جائیں تو انہیں میٹرو اسٹیشنز بند کر کے نہیں روکا جا سکتا۔ حکومت کو بالآخر مذاکرات کا ٹیبل سجانا پڑا اور فاسٹ ٹریک کورٹس کی یقین دہانی کرانی پڑی۔

​حاصلِ کلام:

یہ صرف دہلی کا ایک احتجاج نہیں ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب امتحانی نظام میں شفافیت ختم ہو جائے اور جب خطوں کے سیاسی و ماحولیاتی حقوق کو نظر انداز کیا جائے، تو سوشل میڈیا پر جنم لینے والی "کاک روچ جنتا پارٹی" اور پہاڑوں پر بیٹھنے والے سونم وانگچک مل کر راجدھانی کو ہلانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اگر وقت کے حکمرانوں نے اس سڑک کی آواز کو اب بھی نہ سنا، تو یاد رکھیے، جنتر منتر پر اٹھنے والا دھواں پورے ملک کے سیاسی افق کو تاریک کر سکتا ہے!

کوئی تبصرے نہیں