Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

جولائی کی بارش اور سیاست کا نیا چہرہ

 جولائی کی بارش اور سیاست کا نیا چہرہ تحریر۔ایچ ایس حماز گھمن  تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ظلم حد سے بڑھتا ہے تو ردِعمل محض احتجاج نہیں رہتا، وہ...

 جولائی کی بارش اور سیاست کا نیا چہرہ


تحریر۔ایچ ایس حماز گھمن 


تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ظلم حد سے بڑھتا ہے تو ردِعمل محض احتجاج نہیں رہتا، وہ ایک نئی سیاست کو جنم دیتا ہے۔ بنگلہ دیش کی سیاست میں جولائی 2024 کی بارش بھی کچھ ایسی ہی ثابت ہوئی۔ اس بار بارش نے صرف سڑکیں نہیں دھوئیں، اقتدار کے پرانے چہروں کی گرد بھی بہا لے گئی، اور ان کے ملبے سے ایک نئی نسل ابھر کر سامنے آ گئی۔

اسی نئی نسل کی علامت بن کر جو نام ابھرا، وہ حسنات عبداللہ ہے۔ وہ نہ کسی سیاسی خانوادے کی میراث ہے، نہ اقتدار کے ایوانوں میں پلا بڑھا۔ اس کی سیاست کا پہلا مکتب ڈھاکہ کی سڑکیں، احتجاجی کیمپ اور طلبہ کے نعرے تھے۔ اس نے سیاست کو کتابوں میں نہیں، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے سائے میں سیکھا۔

جب امتیازی نظام کے خلاف طلبہ تحریک اٹھی تو حسنات عبداللہ محض ایک شریک نہیں تھا، بلکہ صفِ اوّل میں کھڑا رہنما تھا۔ یہی تحریک آگے چل کر اقتدار کے ایوانوں تک جا پہنچی اور پہلی بار بنگلہ دیش کی پارلیمانی تاریخ میں Gen Z کو حقیقی نمائندگی ملی۔ صرف ستائیس برس کی عمر میں وہ تیرہویں پارلیمنٹ کا حصہ بن گیا۔

Comilla-4 کے انتخابی حلقے میں اس کی فتح معمولی سیاسی جیت نہیں تھی۔ تمام پولنگ اسٹیشنوں پر واضح برتری نے یہ پیغام دیا کہ عوام اب وراثتی سیاست سے بیزار ہو چکے ہیں۔ لوگ کسی مسیحا کے نہیں، اپنے جیسے ایک نوجوان کے ہاتھ میں مستقبل دیکھنا چاہتے ہیں۔

وہ نیشنل سیٹزن پارٹی کے پلیٹ فارم سے ضرور آیا، مگر اس کی اصل طاقت وہ تحریک تھی جس نے خوف کے حصار توڑ دیے۔ حلف برداری کے دن احتجاجی جرسی پہن کر پارلیمنٹ پہنچنا محض علامتی عمل نہیں تھا، یہ اس عہد کی یاد دہانی تھی کہ ایوانوں کی طاقت سڑک سے جنم لیتی ہے، نہ کہ محلوں سے۔

حسنات عبداللہ کی سیاست کی جڑیں ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ میں پیوست ہیں، اور اس کی زبان میں اس نسل کا غصہ اور امید دونوں بولتے ہیں۔ وہ کھل کر کہتا ہے کہ اگر سو فرعون بھی اکٹھے ہو جائیں تو حسینہ واجد کے مظالم ان سے کم نہ ہوں گے۔

یہی بے خوفی اس کی اصل سیاست ہے۔ بنگلہ دیش کی گلیوں، چائے خانوں اور تعلیمی اداروں میں آج اگر نوجوان مستقبل پر بات کرتے ہیں تو کسی وزیر کا نہیں، حسنات جیسے نوجوانوں کا ذکر کرتے ہیں۔ تاریخ شاید یہی کہہ رہی ہے کہ یہ انجام نہیں، بلکہ ایک نئے سیاسی سفر کا آغاز ہے۔


کوئی تبصرے نہیں