Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

افسر میرے پیچھے ہیں تو ڈینگی میرے آگے

  افسر میرے پیچھے ہیں تو ڈینگی میرے آگے تحریر امجدمحمود چشتی الحمداللہ ہمارا محکمہ تعلیم خود کوڈینگی ایکٹویٹیز کی بدولت دنیا بھر میں active...


 

افسر میرے پیچھے ہیں تو ڈینگی میرے آگے


تحریر امجدمحمود چشتی


الحمداللہ ہمارا محکمہ تعلیم خود کوڈینگی ایکٹویٹیز کی بدولت دنیا بھر میں active ترین شعبہ کے طور پر منوا چکاہے ۔ حکومت نے یہ تاریخی اور انقلابی ہدف اساتذہ کے سیل فون کے ذریعے حاصل کرکے دنیا بھر کو انگشتِ بدنداں کر رکھا ہے ۔ زمانہ معترف ہے کہ ہم تعلیمی اداروں میں سوائے درس و تدریس سب کچھ کرنے کی خدا داد صلاحیتوں سے مالا مال ہیں ۔ اس عظیم مقصد کے حصول کی خاطرہر سکول میں مچھر مار ادویات کی جگہ ایک عد د استاد بطور فوکل پرسن تعینات ہے جو سکولوں میں ڈینگی کی موجودگی کا سراغ لگا کر اپنے فون یا ٹیب کی مددسے اسے واصلِ جہنم کرتا ہے ۔ اس مقصد کے لیے مذکورہ استاد پر اتواریں ،تعطیلات اور عیدین کی چھٹیاں بھی مطلقاََ حرام ہیں ۔ دنیا محو حیرت ہے کہ کہ در ایں مملکت خداداد، فقط ایک سیل فون کے استعمال سے ڈینگی کو موت اور اور بدنامی کے خطرات لاحق ہیں اور وہ ملعون شرم و خوف سے فون کے کیمروں سے منہ چھپاتا پھر رہا ہے ۔ چونکہ ریاستی فرمان ہے کہ


،، ال ایکٹویٹیز فریضہ علیٰ کُل معلمین والمعلمات ،،


لہٰذا روزانہ ہزاروں زنانہ و مردانہ موبائل بکف فرزندگان تعلیم ڈینگی کے خلاف جہاد و قتال میں حصہ لیتے ہیں ۔ فوکل پرسن طلبا کی موجودگی میں سکولوں کے تمام کونوں میں عجیب و غریب حرکتیں کرتے دیکھے جاتے ہیں اور انہیں حرکتوں کے موجب ان کی دماغی حالت پر بھی شک گزرنے لگا ہے ۔ پہلے ان حرکتوں کےلیے ڈاک کے کاغذی گھوڑے دوڑائے جاتے تھے جبکہ لمحہ موجود میں وہی دقیانوسی نظام آن لائن برقی گھوڑوں میں بدل چکا ہے ۔ محکمہ اس عمل پر سخت نظر رکھے ہوئے ہے اور مچھر مارنے کے فراءض میں کوتاہی کو گناہ کبیرہ قرار دیتا ہے ۔ بذریعہ فون مچھروں پر لشکر کشی میں سستی کرنے والے بد عنوان معلمین کو دفتر بلا کر شدید عزت افزائی کے ساتھ ساتھ ٹیب یا ایپ کی فنی خرابیوں کے عذر ہائے لنگ کو بھی موقع پر رد کیا جاتا ہے ۔ محکمہ نے ببانگ دہل اعلان کر رکھا ہے کہ وہ کسی کا غلام نہیں اور کسی بھی ڈینگی ڈیفالٹر کو کسی صورت ;این آر; او نہیں دے گا ۔ مزید یہ کہ ان ایکٹویٹیز کے دائرے کو مزید ’’ ایکسٹینشن ‘‘دی جائے گی ۔ سو اس سلسلے میں معائنہ افسران نے لاگ بکس پر مضحکہ خیز ،حواس باختہ اور وحشت ناک کلمات لکھنا شروع کر دئیے ہیں ۔ ذراءع سے معلوم ہوا کہ اس بابت مزید سخت فیصلے متوقع ہیں ۔ مثلاََ zero activity کے حاملین کےلیے تعلیمی ضلعی دفاتر میں ایک میعاری ’’ پھانسی گھاٹ ‘‘ کی تعمیر کے لیے ٹینڈر ز مانگے جارہے ہیں جبکہ مسلسل نان فنگشنل apps کے قومی مجرمان کے لیے شہر کے وسط میں بین الاقوامی طرز پر،، شمشان گھاٹ،، بنوائے جائیں گے ۔ ان منصوبوں پر اٹھنے والے اخراجات اساتذہ کی نئی بھرتی پر چار سال سے لگی پابندی کو مزیدجاری رکھ کر پورے کیے جائیں گے ۔ یہ تاریخی اقدامات ملک میں تعلیمی کرپشن اور نا اہلی کے خاتمے میں معاون ثابت ہوں گے اور ملکی ترقی کو آٹھ چاند لگنے کے اندیشے بھی روشن ہوچلے ہیں ۔ نہ جانے کیوں معماران قوم ڈینگی ایکٹویٹز سے نالاں ہیں اور قومی و تعلیمی انقلاب کی راہوں میں یہ کہتے ہوئے مزاحم ہیں ،،


اُلجھے ہیں سکولوں میں ڈینگی ایپ کے دھاگے


افسر میرے پیچھے ہیں تو ڈینگی میرے آگے

کوئی تبصرے نہیں