جنسی ابال کو بیلنس کرنے کے لئے مشت زنی کی جا سکتی ہے؟ کیا سیف سیکس سے انسانی صحت پر کوئی مضر اثرات پڑتے ہیں؟ مانع حمل میڈیسن کس لیے استعما...
جنسی ابال کو بیلنس کرنے کے لئے مشت زنی کی جا سکتی ہے؟
کیا سیف سیکس سے انسانی صحت پر کوئی مضر اثرات پڑتے ہیں؟
مانع حمل میڈیسن کس لیے استعمال ہوتی ہیں؟
کیا جنسی تقاضے دونوں طرف سے پورے کیے جا سکتے ہیں؟
کیا پستان چوسنے سے مرد کی صحت پر مضر اثرات پڑتے ہیں؟ کنڈوم پہننے یا نہ پہننے کے مثبت یا منفی اثرات کون سے ہوتے ہیں؟
کیا مشت زنی کرنے سے عضو تناسل ٹیڑھا ہو جاتا ہے؟
کیا میڈیسن وغیرہ کھانے سے عضو مخصوص کو لمبا کیا جاسکتا ہے؟
کیا شادی کی پہلی رات ہی مباشرت کرنا ضروری ہوتا ہے؟
دوران مباشرت اگر خون نہ بہے تو کیا وہ عورت چالو ہوتی ہے؟
جیسے مرد کو جنس سے متعلقہ اچھے برے خیالات سے جوجھنا پڑتا ہے کیا عورت کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے؟
کیا عبادت و ریاضت سے سیکس جیسی منہ زور جبلت کا گلا گھونٹنا ممکن ہے؟
اسکول آتے وقت لڑکیوں کو دیکھ کر جو دماغ خراب ہوتا ہے اس سے بچنے کا کوئی ماسٹر پلان ہے؟
ماں باپ جنسی معاملات کو اپنے بچوں سے شیئر کرنے میں شرم کیوں محسوس کرتے ہیں؟ ماں باپ اپنے ابتدائی جھوٹ کا آغاز اس فقرے سے کیوں کرتے ہیں کہ بے بی جہاز والا دے کر جاتا ہے؟
کیا جنسی معاملات گندے یا نجس ہوتے ہیں؟
اگر جنسی معاملات نجس ہوتے ہیں تو پھر ہمارے ماں باپ مباشرت کیوں کرتے ہیں؟
زیادہ تر قارئین تو عنوان یا سوالات پڑھتے ہی عجیب سے مخمصے میں پڑ جائیں گے اور غصے میں اپنی توپوں کا رخ مصنف کی طرف موڑتے ہوئے جو جی میں آئے گا کہہ ڈالیں گے، کہنا اور رائے دینا ان کا حق ہے اور اس مضمون کا مقصد بھی گفت و شنید کے کلچر کو پروان چڑھانا ہے جسے ہم ایک طویل عرصہ سے ترک کر چکے ہیں اور رجوع کرنے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔ پڑھنے والوں کو ہزار واٹ کا جھٹکا اس وقت لگے گا جب ان پر یہ حقیقت عیاں ہو گی کہ اس قسم کے ڈائریکٹ اور بولڈ قسم کے سوال پوچھنے والوں کا تعلق یونیورسٹی یا کالج سے نہیں بلکہ ان بچوں کا تعلق دسویں جماعت سے ہے۔
جی ہاں یہ بچے عمر کے اس مرحلے میں ہیں جب جوانی ”ڈان پیریڈ“ یعنی ”تڑکے“ سے نکل کر ایک بھرپور صبح میں ڈھل رہی ہوتی ہے۔ ٹیچنگ کمیونٹی سے وابستگی کی وجہ سے جب ہم دوست مل بیٹھتے ہیں تو اسٹوڈنٹس کے ذہنی رویے یا رجحانات پر دل کھول کے باتیں کرتے ہیں تاکہ مل بیٹھ کے بچوں کے سوالات اور اسٹڈی پلان پر غور و فکر کیا جا سکے۔ ہمارے ایک بہت ہی دلعزیز اور مہربان دوست جو بہت روشن خیالات کے مالک ہیں اور آج کل لاہور میں آباد ہیں اور ایک سرکاری اسکول میں اپنی تعلیمی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، انگشت بدنداں قسم کے یہ سوالات انہی کی کلاس کے بچوں نے ان سے پوچھے تھے۔
ہمارے یہ دوست استاد بچوں کو غیر روایتی انداز میں پڑھانے کے علاوہ ان کے ڈائریکٹ سوالات کا جواب بھی خندہ پیشانی سے دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں نے کبھی بھی نصابی سوالات اتنی گرم جوشی سے نہیں پوچھے مگر اس وقت انہیں حیران ہوئی کہ جیسے ہی پڑھاتے وقت اتفاق سے جنس کا تذکرہ ہوا تو میں نے ”ٹچ اینڈ گو“ والا انداز اختیار کرتے ہوئے کنی کترانے کی کوشش کی تو چند بچوں نے ہاتھ کھڑے کر ڈالے کہ جیسے وہ جنس کے متعلق کچھ شکوک و شبہات کلیئر کرنا چاہ رہے ہوں اور پھر ان ہاتھوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی اور پورا پیریڈ اسی چکر میں گزر گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے ہچکچاہٹ اور تذبذب کی وجہ سے گول مول قسم کے جواب دینے کی کوشش کی مگر میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے یوٹیوب ویڈیوز کے حوالے دینا شروع کر دیے۔ انہوں نے بچوں سے پوچھا کہ جنس سے متعلقہ اتنے بڑے بڑے سوالات آپ کے ذہنوں میں کیسے پیدا ہوئے؟ انہوں نے فوراً کہا کہ سر جی انٹرنیٹ اور گوگل کا زمانہ ہے آپ کو جس قسم کی بھی رہنمائی درکار ہو فوراً گوگل اور یوٹیوب پر سرچ کر لیں فوری رہنمائی مل جائے گی۔
جب ہم بچوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات پر آپس میں ڈسکشن کر رہے تھے تو اس نتیجہ پر پہنچے کہ پہلے وقتوں میں جنس سے متعلقہ معلومات بچے اپنے ہمجولیوں یا اپنی عمر سے بڑے افراد سے لینے کی کوشش کرنے میں نہ جانے کتنی بار جنسی تشدد کے مرحلے میں سے گزرتے ہوں گے اور آج کے دور میں وہی کمی ایک طرح سے انٹرنیٹ یا یوٹیوب پوری کر رہی ہے، دونوں ذرائع ہی ایک طرح سے عطائی ہیں۔ عمر میں بڑے افراد بچوں کو مس گائیڈ کرنے کے علاوہ جنسی ہوس بھی پوری کر لیتے ہیں اور دوسری طرف یوٹیوب پر گمراہ کن ویڈیوز موجود ہوتی ہیں جو بچوں کے ابہام یا اشکالات دور کرنے کی بجائے ان کو الٹا ذہنی مریض بنا دیتی ہیں۔
دراصل بچوں کو ذہنی آختہ کرنے کا بندوبست، جس کا آغاز ہم اپنے گھروں سے کرتے ہیں، کے نتائج بہت خطرناک نکلتے ہیں۔ برائے نام طرز کی اخلاقیات کی قید سے آزاد ہوتے ہوتے بچہ نجانے کتنے ہاتھوں میں کھلونا بن چکا ہوتا ہے۔ جنسی درندے لاکھوں بچوں کو نفسیاتی مریض بنا ڈالتے ہیں اور آج کی جدید دنیا میں یہ فریضہ یوٹیوب ادا کر رہی ہے جس پر درجنوں عطائی پیسے کمانے کے چکروں میں گمراہ کن ویڈیوز اپلوڈ کرتے رہتے ہیں۔ انسان کی دو بنیادی ”لونگ انسٹنکٹ“ یا حیاتیاتی جبلتیں ہوتی ہیں اور انتہائی منہ زور ہیں جن کے تقاضے پورے کیے بغیر ہم کسی طرح سے راہ فرار حاصل نہیں کر سکتے۔
شکم کی بھوک
جنس کی بھوک
ان دونوں جبلتوں کا ہی سارا چکر ہے، شکم کی بھوک مٹانے کے لئے انسان نہ جانے کیسے کیسے اللے تللے کرتا ہے۔ جھوٹ سچ کے سہارے ساری عمر بینک بیلنس بنانے کے چکر میں پڑا رہتا ہے۔ دوسری جنس کی بھوک ہوتی ہے جسے مٹانے کے لئے ہمارے معاشرے میں یا تو جلدی شادی کر لینا یا توبہ استغفار طرز کا بندوبست موجود ہوتا ہے۔ جن معاشروں میں انفرادیت کو تسلیم کرتے ہوئے انسان کی ذات سے جڑے معاملات کو ذاتی سمجھا جاتا ہے اور معیشت کے ہموار مواقع موجود ہوتے ہیں وہاں لوگ اپنی ذات کے حقیقی سچ کے ساتھ بے فکری سے جیتے ہیں اور جہاں منافقت اور خواہ مخواہ کی پارسائی کا چلن ہوتا ہے وہاں انسان نہیں بلکہ روبوٹ پائے جاتے ہیں، جو منافقت کے سہارے دوسروں کے لیے جیتے ہیں اپنے لیے نہیں۔
اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جنس جیسے موضوع پر ڈسکشن کرنے کو بے غیرتی و بے شرمی تصور کیا جاتا ہے۔ کیا یہ المیہ نہیں ہے کہ جنس سے متعلق دیواروں سے شروع ہونے والا گمراہ کن تسلسل یا پروپیگنڈا اب یوٹیوب کے ذریعے سے ہمارے بچوں کے ذہنوں میں بھی منتقل ہونا شروع ہو چکا ہے اور ہمارے معاشرے کے پنڈت چاہے وہ استاد کے روپ میں ہوں یا والدین کے، وہ ان چکروں میں پڑے ہوئے ہیں کہ اس طرح کی جنسی باتیں کھلے عام کرنے سے کہیں ہماری نسلیں تباہ نہ ہو جائیں۔
کیا بچوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات فطری نہیں ہیں؟ کیا ہمیں ان کا جواب انہیں فطری یا پریکٹیکل طور پر نہیں دینا چاہیے؟ اگر ہم ان سوالات کا کلیئر کٹ جواب دینے کی بجائے روحانی کہانیوں سے کام چلانے کی کوشش کریں گے تو یہ درجنوں عطائی دکانیں یونہی چلتی رہیں گی۔ ایک بات ذہن میں رکھیں جب بچے کو آپ بچپن میں اس قسم کے جھوٹ سے بہلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ
”بیٹا بے بی رات کو جہاز والا دے کر جاتا ہے“
اس جواب سے وہ وقتی طور پر تو بہل جاتا ہے مگر جب وہ تسلسل سے اپنی ماں کے ابھرے پیٹ کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے تو اس کے معصوم ذہن میں درجنوں سوالات جنم لینے لگتے ہیں اور وہ اچھے سے سمجھ جاتا ہے کہ دال میں کچھ تو کالا ضرور ہے جسے مجھ سے چھپایا جا رہا ہے مگر افسوس اس راز کی حقیقت اسے اجنبیوں سے پتا چلتی ہے اپنوں سے نہیں۔ اب جس بچے کو معاشرتی عطائیوں یا یوٹیوب کے عطائیوں سے اس قسم کی کوچنگ فری میں مل رہی ہو تو ان کا جنسی سفر کیسا رہے گا؟
مشت زنی سے انسان نامرد ہو جاتا ہے۔
عضو تناسل ٹیڑھا ہو جاتا ہے۔
ادویات سے عضو مخصوصہ کو لمبا کیا جا سکتا ہے۔
مختلف ادویات سے جنسی دورانیہ کو طویل کیا جاسکتا ہے۔
پہلی رات میں اگر وجائنا سے خون نہ بہے تو لڑکی دو نمبر ہوتی ہے۔
مردانہ کمزوری اور نامردی کا حقیقت میں کوئی وجود ہوتا ہے۔
اس کے متعلق ہزاروں گمراہ کن ویڈیوز یوٹیوب پر موجود ہیں ان ویڈیوز کو حرف آخر سمجھ کر زندگی گزارنے والا انسان جنسی طور پر نارمل ہو سکتا ہے؟ فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ ہم نے بچوں کی صحیح معنوں میں جنسی اسکولنگ کر کے انہیں کھرا اور اپنے سچ کے ساتھ جینے والا انسان بنانا ہے یا معاشرتی منافق؟ ویسے منافقت میں تو ہم پہلے ہی بہت خودکفیل ہیں تھوڑا بہت کھرے پن کا ذائقہ چکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

کوئی تبصرے نہیں