Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

پاکستان پر سیلاب کے بعد جان لیوا وبائی امراض کا خطرہ منڈلا رہا ہے، عالمی ادارۂ صحت

نیو یارک(ویب ڈیسک)عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ سیلاب کے بعد پاکستان میں دوسری آفت کا خطرہ منڈلا رہا ہے جو مختلف وبائی امرا...


نیو یارک(ویب ڈیسک)عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ سیلاب کے بعد پاکستان میں دوسری آفت کا خطرہ منڈلا رہا ہے جو مختلف وبائی امراض سے بیماریوں اور اموات کی صورت میں ہوگی۔


عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈائریکٹر ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر ٹیڈروس نے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مختلف جان لیوا وباؤں کے پھیلاؤ سے خبردار کیا ہے۔


اپنے ایک بیان میں سربراہ عالمی صحت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیلاب کے بعد ایک اور ناگہانی آفت وبائی امراض کے پھوٹنے اور ان سے ہونے والے جانی نقصان کی صورت میں سر اُٹھا سکتی ہے۔

پاکستان پر سیلاب کے بعد جان لیوا وبائی امراض کا خطرہ منڈلا رہا ہے، عالمی ادارۂ صحت

ویب ڈیسک  اتوار 18 ستمبر 2022

شیئرٹویٹشیئرای میلتبصرے

مزید شیئر

مزید اردو خبریں

عالمی برادری سے پاکستان کے لیے 10 ملین ڈالر کی امداد کی درخواست کریں گے، ڈبلیو ایچ او 

عالمی برادری سے پاکستان کے لیے 10 ملین ڈالر کی امداد کی درخواست کریں گے، ڈبلیو ایچ او


عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ سیلاب کے بعد پاکستان میں دوسری آفت کا خطرہ منڈلا رہا ہے جو مختلف وبائی امراض سے بیماریوں اور اموات کی صورت میں ہوگی۔


عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈائریکٹر ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر ٹیڈروس نے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مختلف جان لیوا وباؤں کے پھیلاؤ سے خبردار کیا ہے۔


اپنے ایک بیان میں سربراہ عالمی صحت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیلاب کے بعد ایک اور ناگہانی آفت وبائی امراض کے پھوٹنے اور ان سے ہونے والے جانی نقصان کی صورت میں سر اُٹھا سکتی ہے۔

سربراہ عالمی صحت نے پاکستان کے سیلاب زدگان کے لیے 10 ملین ڈالر کی امداد کی اپیل جاری کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے دو ہزار سے زائد صحت کے مراکز تباہ ہوگئے جس سے وبائی امراض سے نمٹنے کی صلاحیت کم ہوگئی ہے۔


خیال رہے کہ سیلابی پانی تاحال کئی علاقوں میں کئی کئی فٹ موجود ہے جس سے ڈینگی، ملیریا، ٹائیفائیڈ اور جلد کی بیماریوں کا بڑے پیمانے پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔


 


 

کوئی تبصرے نہیں